مصطفیٰ کمال نے آئی سی سی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا

عالمی کپ 2015ء میں کئی ہنگامے پیدا کرنے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے صدر مصطفیٰ کمال نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

بھارت-بنگلہ دیش کوارٹر فائنل کے بعد امپائروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناکر نیا تنازع پیدا کرنے والے مصطفیٰ کمال اس حد تک چلے گئے تھے کہ انہوں نے یہ تک کہا کہ بھارت کو عالمی کپ جتوانے کے لیے سازش کی جارہی ہے۔ ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا ہی نہیں تھا کہ عالمی کپ فائنل میں انہیں فاتح ٹیم کے کپتان کو ٹرافی دینے سے روک دیا گیا، جو بحیثیت صدر اُن کا آئینی حق تھا۔ مصطفیٰ کمال کی جگہ چیئرمین آئی سی سی این شری نواسن نے آسٹریلیا کے مائیکل کلارک کو عالمی کپ ٹرافی تھمائی جس کے بعد مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ وہ سب کچا چٹھا کھول کر رکھ دیں گے۔

اس بیان کے ایک ہی دن بعد اپنے وطن بنگلہ دیش واپس پہنچ کر مصطفیٰ کمال نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور کہتے ہیں کہ ان کا یہ فیصلہ اٹل ہے اور وہ ہرگز واپس نہیں لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ غیر آئینی انداز میں کام کرنے والے افراد کے خلاف بطور احتجاج کیا ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل ویسے ہی ان کے گزشتہ بیانات پر خفا ہے اور شاید پہلا بیان ہی تھا جس کی وجہ سے انہیں فائنل میں فاتح کپتان کو ٹرافی دینے سے روکا گیا، اس لیے کم از کم آئی سی سی تو ان کے استعفے کو بخوشی قبول کرے گی۔ آئی سی سی نے ان سے معذرت بھی طلب کی تھی لیکن مصطفیٰ کمال نے انکار کردیا تھا۔

آئی سی سی کے نئے دستور کے مطابق صدر کے اختیارات ویسے ہی محدود ہیں لیکن ان بیانات نے مصطفیٰ کمال کی ساکھ کو کتنا نقصان پہنچایا ہے کہ ٹرافی تھمانے سے روکنے کے علاوہ ان کی اجازت کے بغیر ایک اجلاس تک عالمی کپ کے دوران طلب کیا گیا، حالانکہ آئین کے مطابق یہ دونوں اختیارات صدر کے ہیں۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اگر مصطفیٰ کمال خود استعفیٰ نہ دیتے تو انہیں زبردستی مجبور کیا جاتا۔

اب ممکنہ طور پر پاکستان کے نجم سیٹھی صدارت کا عہدہ سنبھالیں گے کیونکہ پاکستان بنگلہ دیش کے حق میں دستبردار ہوا تھا۔

Facebook Comments