دورۂ آئرلینڈ، شاہد آفریدی کی بطور کپتان شمولیت کی کوئی ضمانت نہیں؛ اعجاز بٹ

پاکستان کے کپتان شاہد آفریدی دورۂ ویسٹ انڈیز سے واپس آنے کے بعد تنازعات میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ ابھی عالمی کپ کے بعد بھارت کے حوالے سے بیانات کی گرد بیٹھنے ہی نہ پائی تھی کہ وہ ایک مرتبہ پھر دورۂ ویسٹ انڈیز پر موجود ٹیم انتظامیہ کے حوالے سے بیان پر دھر لیے گئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ شاہد آفریدی اور وقار یونس کے معاملے میں کوئی نرمی برتتا دکھائی نہیں دیتا

اب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے اعلان کر دیا ہے کہ دورۂ آئرلینڈ میں ضروری نہیں کہ شاہد آفریدی ہی پاکستان کے کپتان ہوں اور نہ ہی انہیں اس طرح کی کوئی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ وہ بدھ کو ایک نجی ٹیلی وژن چینل سے گفتگو کر رہے تھے

انہوں نے کہا کہ شاہد سے ہونے والی آخری ملاقات میں میں نے واضح کر دیا تھا کہ انضباطی معاملات پر ان سے جوابدہی ہوگی اور پی سی بی اس سلسلے میں ٹیم کے غیر ملکی دورے کے خاتمے کے بعد جمع کرائی گئی میچ رپورٹ کا انتظار کر رہا ہے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ آئرلینڈ کے خلاف دو ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کے لیے ٹیم کے انتخاب پر مشاورت جاری ہے اور ایک یا دو روز میں حتمی ٹیم کا اعلان کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پانچ ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد وطن واپس پہنچنے والے شاہد آفریدی نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر کسی کو اپنا کام کرنا چاہیے اور دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس بیان کا واضح ہدف کوچ وقار یونس تھے ۔ ذرائع کے مطابق یہ بیان چوتھے اور پانچویں ایک روزہ مقابلوں کے لیے ٹیم کے انتخاب پر شاہد آفریدی اور وقار یونس کے درمیان ٹیم کے انتخاب پر ہونے والے اختلاف کا ردعمل تھا۔ ٹیم انتظامیہ میں اختلاف کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی ٹیم آخری دونوں میچز میں شکست کھا گئی اور ایک ایسی سیریز جو پاکستان 5-0 سے با آسانی جیتی جا سکتی تھی محض 3-2 سے جیت پایا۔

بعد ازاں شاہد آفریدی کے وضاحتی بیانات کے باوجود بورڈ اس معاملے پر کوئی نرمی برتتا نہیں دکھائی دیا اور آج اعجاز بٹ کا جاری ہونے والا بیان اس کا واضح عکاس ہے۔ قبل ازیں بورڈ نے آفریدی کے اس بیان کا نوٹس لیتے ہوئے اسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور شاہد آفریدی کو لاہور طلب کر لیا۔

شاہد آفریدی کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد سے ذرائع بتا رہے تھے کہ انہیں دورۂ آئرلینڈ کے لیے ٹیم میں شامل نہیں کیا جائے گا کیونکہ پی سی بی متعدد مواقع پر یہ کہہ چکا ہے کہ وہ دورے کے اختتام پر پیش کی جانے والی ٹور رپورٹ کا انتظار کر رہا ہے اور کیونکہ پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز سے براہ راست آئرلینڈ جائے گی اس لیے رپورٹ بھی دورۂ آئرلینڈ کے بعدہی جمع کرائی جائے گی۔ اس لیے شاہد آفریدی کے آئرلینڈ کے خلاف کھیلنے امکانات کم رہ جاتے ہیں۔

Facebook Comments