اینڈرسن این بوتھم کے پائے کا گیندباز ہے: ویوین رچرڈز

عالمی کپ کے بعد سوائے ایک فاتح کے تمام ہی ٹیموں نے اپنے ٹوٹے ہوئے حوصلے جمع کیے ہیں اور اب نئے عزم کے ساتھ میدانوں میں آ رہی ہیں۔ سب سے پہلی بین الاقوامی سرگرمی ویسٹ انڈیز اور انگلستان کا ٹیسٹ ہے جو نارتھ ساؤنڈ میں شروع ہوچکا ہے، جس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ جیمز اینڈرسن کا 100 واں ٹیسٹ ہے۔ 32 سالہ تیز گیندباز نے مئی 2003ء میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور اب 12 سال میں 100 ٹیسٹ کا سنگ میل عبور کر چکے ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے تقریباً 30 کے اوسط کے ساتھ 380 وکٹیں حاصل کیں اور انگلستان کے لیے کئی یادگار فتوحات میں اپنا حصہ ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کے عظیم کھلاڑی سر ویوین رچرڈز نے کہا ہے کہ جیمز اینڈرسن کو انگلستان میں ویسے ہی یاد کیا جائے گا جیسے آج این بوتھم کو یاد کیا جاتا ہے۔

این بوتھم انگلستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے گیندباز ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر میں 383 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس شاندار ریکارڈ کو توڑنے کے لیے جمی اینڈرسن کو صرف 4 وکٹوں کی ضرورت ہے اور شاید وہ اسی سیریز میں یہ ہدف حاصل کرلیں اور اپنا نام تاریخ میں محفوظ کروا لیں۔ رچرڈز سمجھتے ہیں کہ اینڈرسن باب ولس اور این بوتھم کے پائے کے کھلاڑی ہیں، جنہیں آج بھی عظیم گیندباز کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے اور مستقبل میں یہی احساسات اینڈرسن کے لیے بھی ہوں گے۔

63 سالہ ویوین رچرڈز نے مزید کہا کہ "اینڈرسن نے اپنے کیریئر میں بہترین کارکردگی پیش کی ہے، ان کے پاس زبردست صلاحیت ہے اوراب جبکہ وہ انگلستان کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلربن سکتے ہیں، یہ جمی کے لیے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔" ماضی میں تاریخ کے خطرناک ترین گیندبازوں کی قیادت کرنے والے ویو کہتے ہیں کہ اگر اینڈرسن میرے دور میں ہوتے اور مجھے دستیاب ہوتے تو میں ضرور اپنی ٹیم میں انہیں لینا پسند کرتا۔"

سر ویوین رچرڈز اسٹیڈیم میں جاری پہلے ٹیسٹ کے ابتدائی دن انگلستان کو بیٹنگ کی دعوت دی گئی تو اس کی حالت قابل رحم تھی۔ صرف 34 رنز پر اس کے تین بلے باز آؤٹ ہو چکے تھے جن میں جوناتھن ٹراٹ کا صفر پر آؤٹ ہونا بھی شامل تھا۔ لیکن اس کے بعد این بیل اور جو روٹ نے 177 رنز کی شراکت داری کے ذریعےانگلستان کو اس مصیبت سے نکالا۔ بعد ازاں بیل نے بین اسٹوکس کے ساتھ مزید 130 رنز کا اضافہ کرکے مقابلے پر انگلستان کو حاوی کردیا۔ روٹ 83 اور بیل 143 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ پہلے دن کا کھیل ختم ہونے پر انگلستان 341 رنز پر پانچ وکٹوں سے محروم ہے اور اسٹوکس 80 گیندوں پر 71 رنز کے ساتھ بہترین بلے بازی کررہے ہیں۔

Facebook Comments