شکست سے گھبرانا نہیں، پاکستان کو آگے بڑھنے کی ضرورت

بنگلہ دیش کے ہاتھوں پہلے ایک روزہ مقابلے میں پاکستان کی شکست ہرگز غیر متوقع نہیں تھی۔ ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے تک بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کی مسلسل فتوحات اس حقیقت کا مظہر تھی کہ بنگلہ دیش کی کرکٹ کے آگے بڑھنے کی رفتار سست ہے اور اس کے مقابلے میں پاکستان کہیں بہتر ٹیم ہے لیکن دونوں ٹیموں کے آخری باہمی مقابلوں سے صاف اندازہ ہوگیا تھا کہ اب یہ فرق بہت کم رہ گیا ہے۔

جب ایشیا کپ 2012ء کے فائنل میں پاکستان اور بنگلہ دیش مقابلے آئے تھے تو معاملہ آخری اوور بلکہ آخری گیند تک پہنچا اور پاکستان محض دو رنز سے کامیابی حاصل کر پایا اور ایشیائی چیمپئن بنا۔ دو سال بعد 2014ء میں یہی ایشیا کپ تھا جس میں دونوں ٹیمیں مقابل آئیں، بنگلہ دیش نے اس بار اپنا سب سے بڑا ایک روزہ مجموعہ 326 رنز اکٹھا کیا۔ پاکستان کو احمد شہزاد کی سنچری اوراہم مرحلے پر شاہد آفریدی کی دھواں دار اننگز کا ساتھ حاصل نہ ہوتا تو شکست یقینی تھی کیونکہ پاکستان نے تاریخ میں کبھی اتنا بڑا ہدف حاصل نہیں کیا تھا۔ بہرحال، 7وکٹوں سے کامیابی ضرور ملی لیکن مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی وہیں بج چکی تھی۔

اب عالمی کپ 2015ء کا پاکستان کا دستہ ایک مرتبہ پھر ارتقائی مرحلے میں ہے۔ ٹیم میں تجربہ کاروں کے بجائے نوآموز کھلاڑیوں کی بھرمار ہے۔ سب سے تجربہ کار کھلاڑی محمد حفیظ ہیں، جنہوں نے 156 ایک روزہ کھیل رکھے ہیں جبکہ خود کپتان اظہر علی کا کل تجربہ 15 ایک روزہ مقابلوں تک محدود ہے۔

پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش اب ایک مضبوط دستہ ہے۔ حالیہ عالمی کپ میں انگلستان کے خلاف اہم مقابلے میں کامیابی اور کوارٹر فائنل تک رسائی اور نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے لیے اچھی کارکردگی نے ظاہر کیا کہ ٹیم اب خاصی مضبوط ہوچکی ہے اور اپنے میدانوں پر تو اور بھی زیادہ سخت حریف ہوگی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاک-بنگلہ سیریز کے آغاز سے پہلے شکیب الحسن نے کہا تھا کہ اس سیریز میں بنگلہ دیش فیورٹ ہوگا۔ خود ہم نے بھی 16 سالہ تاریخ کی بنیاد پر اس بیان کا مذاق اڑایا تھا لیکن پہلے ہی مقابلے میں واضح ہوچکا ہے کہ یہ "دیوانے کی بڑ" نہیں تھی، جیسا کہ ہم نے اسے سمجھاتھا۔

لیکن اس شکست کے باوجود پاکستان کو گھبرانا نہیں چاہیے، اور فوری طور پر بڑی تبدیلیوں سے سے مکمل طور پر گریز کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے تو ٹیم ہمیں بحیثیت مجموعی شکست کو قبول کرنا سیکھنا ہوگا، اسی کے ذریعے ہم نئے عہد میں داخل ہو سکتے ہیں۔ نئے کھلاڑیوں کوحالات کا ادراک کرنے اور خود کو نئے مزاج میں ڈھالنے میں وقت لگے گا۔ اس دوران انہیں کئی شکستیں بھی ہوسکتی ہیں، یہاں تک کہ بنگلہ دیش اور زمبابوے کے خلاف بھی ہار سکتے ہیں لیکن یہی حالات ٹیم کو بنانے میں کارآمد ثابت ہوں گے۔ آہستہ آہستہ کھلاڑیوں میں اچھا تال میل بنے گا، ان میں ہم آہنگی پیدا ہوگی، اس کے بعد ہی ان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کے مطابق حقیقی نتائج بھی برآمد ہوں گے۔ ان حالات سے گزرنے کے بعد ہی ثابت ہوگا کہ کون کھلاڑی ملک کی نمائندگی کا اہل ہے اور کون نہیں۔ اس سے پہلے یکدم تبدیلیاں کرنا اور پرانے، آزمائے ہوئے اور پٹے ہوئے کھلاڑیوں کو واپس لانا دراصل شکست سے خوف کھانا ہے اور ایسا کوئی بھی قدم ٹیم کو بجائے آگے لے جانے کے کئی سال پیچھے کردے گا۔ اب یہ ٹیم انتظامیہ اور تربیتی عملے کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے کھلاڑیوں کے لیے وقت کا تعین کرے کہ کسے کتنا موقع دینا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ پاکستان تاریخ میں پہلی بار بنگلہ دیش کے ہاتھوں سیریز میں شکست کھائے، لیکن جو قدم اٹھا لیا گیا ہے، اس سے اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ جس طرح لگاتار شکستوں کے باوجود مصباح الحق کو عرصہ دراز تک کپتان برقرار رکھا گیا، اسی طرح اظہر علی پر بھی اعتماد کیا جائے۔ پھر اظہر نے پہلے مقابلے میں ایک اچھی اننگز کھیل کر حق ادا کردیا ہے البتہ قیادت کے سلسلے میں انہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہوگا۔ ضرورت صرف ان پر اعتماد کرنےکی ہے۔

Facebook Comments