پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے امکانات روشن

پاکستان میں گزشتہ چھ سالوں سے بین الاقوامی کرکٹ نہیں ہو رہی۔ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے نے ملک کے کرکٹ میدانوں کو ویران کردیا ہے۔ ان میدانوں کی رونقیں بحال کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ عرصے سے کوشاں ہے لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی لیکن اب امید کی ایک کرن دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان زمبابوے کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ وہ اگلے مہینے یعنی مئی کے وسط میں ایک مختصر سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ پاکستان لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے ساتھ ساتھ کراچی میں بھی چند مقابلوں کے انعقاد پر غور کررہا ہے البتہ دورے کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے اور ابھی زمبابوے کے علاوہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے بھی اجازت اور منظوری لینی ہے۔

شہریار خان نے کہا کہ گزشتہ ہفتے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اجلاس کے دوران زمبابوے کرکٹ کےچیئرمین ولسن مناسے کے ساتھ ملاقات میں دورے کی جانب اہم پیشرفت ہوئی ہے اور زمبابوے نے مثبت جواب دیا ہے۔

زمبابوے کا ایک سیکورٹی وفد رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کرسکتا ہے تاکہ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو غیر ملکی امپائروں کی عدم دستیابی کی صورت میں مقامی امپائر مقرر کرنے کی آئی سی سی سے اجازت لینا پڑے گی۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ زمبابوے نے پاکستان کے دورے کے لیے دو شرائط پیش کی ہیں۔ ایک پاکستان سیریز کی نصف آمدنی زمبابوے کو دے اور دوسری یہ کہ اگست میں پاکستان زمبابوے کا جوابی دورہ بھی کرے۔ ان شرائط کو تسلیم کرنے کی صورت میں ہوسکتا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال ہوجائے۔

پاکستان نے ماضی قریب میں افغانستان اور کینیا کے خلاف ایک کم حیثیت کی حامل سیریز کھیلی ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی مکمل بین الاقوامی درجہ حاصل نہیں تھا جبکہ زمبابوے کا دورۂ پاکستان اگر طے پا گیا تو یہ چھ سال کے عرصے کے بعد وطن عزیز میں بین الاقوامی کرکٹ کی پہلی واپسی ہوگی۔

پاکستان گزشتہ چھ سالوں سے اپنی تمام سیریز کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں کررہا ہے جس کی وجہ سے اس کے مالی معاملات خاصے بگڑ چکے ہیں کیونکہ امارات میں ہونے والی سیریز کے اخراجات کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے میدانوں پر کھیلنے کا موقع نہ ملنے کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

زمبابوے نے جنوری 2008ء میں آخری بار پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں پانچ ایک روزہ مقابلے کھیلے گئے تھے اور پاکستان نے کلین سویپ کیا تھا۔

Facebook Comments