[ریکارڈز] پاکستان کے کپتانوں کی سنچریاں

پاکستان کرکٹ پر باؤلنگ اور باؤلرز کی کتنی گہری چھاپ ہے، اس کا اندازہ ریکارڈ بک سے ہی ہوجاتا ہے۔فضل محمود سے لے کر شعیب اختر تک، پاکستان نے دنیائے کرکٹ کو بہترین گیندباز عطا کیے ہیں۔کرکٹ ٹیسٹ ہو یا ایک روزہ، جب بھی دنیا کے بہترین گیندبازوں کا ذکر ہوتا ہے تو پاکستان کا کوئی نہ کوئی سپوت فہرست میں ضرور جگہ پاتا ہے لیکن جب ذکر ہو بلے بازی کا تو عظمت کے عالمی پیمانوں پراکا دکا پاکستانی بلے باز ہی پورے اترتے ہیں۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ ایک روزہ کرکٹ کی دہائیوں پر مشتمل تاریخ میں صرف 8 پاکستانی کپتان ایسے ہیں، جنہیں سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔

پاکستان کے نوجوان کپتان اظہر علی نے بنگلہ دیش کے خلاف ایک روزہ سیریز کے آخری مقابلے میں 112 گیندوں پر 101 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ یہ سنچری فاتحانہ تو ثابت نہیں ہوئی اور پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں 8 وکٹوں کی شکست، اور ساتھ ہی کلین سویپ، کی ہزیمت اٹھانی پڑی۔ لیکن یہ پانچ سال کے طویل عرصے کے بعد کسی بھی پاکستانی کپتان کی پہلی ایک روزہ سنچری تھی۔

آخری بار کسی پاکستانی کپتان نے 2010ء میں سنچری بنائی تھی جب شاہد آفریدی نے ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کے خلاف تہرے ہندسے کی اننگز کھیلی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک کسی پاکستانی قائد کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا۔

مجموعی طور پر پاکستان کرکٹ تاریخ میں کپتانوں کی جانب سے 10 سنچریاں بنی ہیں۔ سب سے پہلے عمران خان نے عالمی کپ 1983ء میں سری لنکا کے خلاف ایک یادگار اور فاتحانہ سنچری بنائی تھی۔ جب پاکستان 43 رنز پر پانچ کھلاڑیوں سے محروم ہوچکا تھا تو عمران نے 133 گیندوں پر 102 رنز کی اننگز کھیلی اور شاہد محبوب کے ساتھ 144 رنز جوڑ کر پاکستان کے لیے 235 رنز تک پہنچنا ممکن بنایا۔ یہ سنچری کتنی اہم تھی، اس بات سے اندازہ لگا لیجیے کہ پاکستان نے بعد میں صرف 11 رنز سے کامیابی سمیٹی۔

اس کے بعد اگلے 12 سال تک کسی پاکستانی کپتان کو تہرے ہندسے میں پہنچنے کی توفیق نہ ملی۔ یہاں تک کہ اکتوبر 1995ء میں رمیز راجہ نے ویسٹ انڈیز کے شارجہ میں 104 رنز کی فاتحانہ اور ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ اسی مقام پر اپریل 1996ء میں عامر سہیل نے بھارت کے خلاف 127 گیندوں پر 105 رنز بنائے اور پاکستان کو کامیابی دلائی۔

اکتوبر 1996ء میں جب پاکستان کینیا کرکٹ ایسوسی ایشن کے صد سالہ جشن پر منعقدہ ٹورنامنٹ میں شریک تھا تو سعید انور نے بحیثیت کپتان اپنی واحد سنچری بنائی۔ عالمی چیمپئن سری لنکا کے خلاف انہوں نے 120 گیندوں پر 115 رنز بنائے لیکن میلہ لوٹا شاہد آفریدی نے۔ جنہوں نے اپنی پہلی ایک روزہ اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی اور پاکستان کو مقابلہ جتوایا۔ سعید انور کی قائدانہ اننگز شاہد کی طوفانی کارکردگی کے پیچھے چھپ گئی۔

انضمام الحق کے علاوہ شاہد آفریدی نے بھی قائد کی حیثیت سے دو، دو سنچریاں بنائی ہیں۔ ان کے علاوہ کسی پاکستانی کپتان کو ایک سے زیادہ تہرے ہندسے کی اننگز کھیلنے کو نصیب نہیں ہوئی۔ انضمام نے اپنی پہلی سنچری مارچ 2004ء میں بھارت کے خلاف کراچی کے مقام پر بنائی۔ 350 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انضی کی 102 گیندوں پر 122 رنز کی اننگز پاکستان کو فتح کے بہت قریب لے آئی، بس دو چار ہاتھ لب بام رہ گیا اور پاکستان محض 5 رنز سے شکست کھا گیا۔ اسی سیریز میں انضمام نے لاہور میں بھی سنچری بنائی لیکن یہ بھی فتح یاب ثابت نہ ہوسکی۔ ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہےکہ انضمام الحق سنچری بنائیں اور پاکستان کو کامیابی نصیب نہ ہو۔ بس کپتان کی حیثیت سے یہ دو باریاں بھی ان معدودے چند اننگز میں شامل ہیں۔

شعیب ملک نے اپنے مختصر قائدانہ عہد میں بھارت کے خلاف ہی سنچری بنائی، لیکن انضمام کی باریوں کی طرح یہ بھی فاتحانہ ثابت نہیں ہوئی۔ ایشیا کپ 2008ء کے پاک-بھارت مقابلے میں شعیب 119 گیندوں پر 125 رنز بنانے کے بعد ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے۔ بعد ازاں پاکستان 300 رنز کے ہدف کا دفاع نہ کرسکا اور بھارت وریندر سہواگ اور سریش رینا کی بدولت 6 وکٹوں سے جیت گیا۔

اظہر علی سے پہلے پاکستان کے کسی بھی کپتان کی آخری دونوں سنچریاں شاہد آفریدی کے نام ہیں۔ جنہوں نے ایشیا کپ 2010ء میں دو مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا۔ پاکستان سری لنکا کے خلاف محض 243 رنز کے ہدف کا تعاقب کررہا تھا لیکن ٹاپ آرڈر کی ناکامی آڑے آ گئی اور شاہد آفریدی 76 گیندوں پر 109 رنز بنا کر بھی پاکستان کو مقابلہ نہ جتوا سکے۔ جب پاکستان بھارت کے ہاتھوں شکست کھا کر اعزاز کی دوڑ سے باہر ہوا تو آخری مقابلہ بنگلہ دیش سے تھا، جس کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ لیکن یہاں شاہد آفریدی نے اپنا تمام تر غصہ نکالا اور 60 گیندوں پر 124 رنز بنا ڈالے۔ اس اننگز میں 4 چھکے اور 17 چوکے شامل تھے۔ پاکستان جیتا ضرور لیکن سب لاحاصل رہا کیونکہ بھارت اور سری لنکا ایشیا کپ کے فائنل تک پہنچ گئے تھے۔

بہرحال، 2011ء میں شاہد آفریدی کو کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد مصباح الحق کو قائدانہ فرائض سونپے گئے۔ جو اپنی مستقل مزاجی کے باوجود کبھی سنچری نہ بنا سکے۔ انہوں نے کپتان کی حیثیت سے 27 نصف سنچریاں بنائیں، لیکن کبھی تہرے ہندسے کو نہ پہنچ سکے۔ 96 رنز کی ناقابل شکست اننگز ان کی بہترین کارکردگی تھی۔

جو مصباح کپتان کی حیثیت سے 87 مقابلوں میں نہ کرسکے، وہ اظہر علی نے محض اپنے تیسرے ایک روزہ میں کر دکھایا۔ 10 چوکوں سے مزین اس سنچری اننگز کے ذریعے اظہر نے سیریز میں تقریباً 70 کے اوسط کے ساتھ 209 رنز بنائے، جو ایک مایوس کن سیریز کا روشن پہلو ہے۔

ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں آسٹریلیا اور بھارت کے کپتانوں نے بنائی ہیں، جن کی تعداد 39، 39 ہے۔ اس کے بعد سری لنکا نے 21، جنوبی افریقہ نے 19، ویسٹ انڈیز نے 18 اور انگلستان نے 17 قائدانہ سنچریاں دیکھی ہیں۔ پاکستان کی 10 سنچریوں کو محض بنگلہ دیش پر ہی برتری حاصل ہے جن کے کپتانوں نے 5 بار تہرے ہندسے کو عبور کیا ہے۔

اگر انفرادی سطح پر دیکھا جائے تو آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ کو بحیثیت قائد 22 سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ بھارت کے سارو گانگلی 11 اور سری لنکا کے سنتھ جے سوریا 10 سنچریاں بنا چکے ہیں۔ یعنی ان کھلاڑیوں کی انفرادی سنچریاں ہی پاکستان کی کل کپتان سنچریوں سے زیادہ ہیں۔

کپتان کی حیثیت سے سنچریاں بنانے والے پاکستانی بلے باز

کپتان ملک رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
عمران خان پاکستان 102* 133 11 0 سری لنکا لیڈز 16 جون 1983ء
رمیز راجہ پاکستان 104* 134 7 1 ویسٹ انڈیز شارجہ 13 اکتوبر 1995ء
عامر سہیل پاکستان 105 127 8 0 بھارت شارجہ 12 اپریل 1996ء
سعید انور پاکستان 115 120 13 1 سری لنکا نیروبی 4 اکتوبر 1996ء
انضمام الحق پاکستان 122 102 12 2 بھارت کراچی 13 مارچ 2004ء
انضمام الحق پاکستان 123 121 9 4 بھارت لاہور 21 مارچ 2004ء
شعیب ملک پاکستان 125* 119 16 1 بھارت کراچی 26 جون 2008ء
شاہد آفریدی پاکستان 109 76 8 7 سری لنکا دمبولا 15 جون 2010ء
شاہد آفریدی پاکستان 124 60 17 4 بنگلہ دیش دمبولا 21 جون 2010ء
اظہر علی پاکستان 101 112 10 0 بنگلہ دیش ڈھاکہ 22 اپریل 2015ء

Facebook Comments