سنیل نرائن کا باؤلنگ ایکشن پھر شک کی زد میں

ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز اسپن گیندباز، اور دنیا بھر کی لیگز میں "کرائے کے سپاہی" کی خدمات انجام دینے والے، سنیل نرائن کا مستقبل مخدوش دکھائی دینے لگا ہے کیونکہ ایک مرتبہ پھر ان کے باؤلنگ ایکشن پر شک کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ اس وقت انڈین پریمیئر لیگ میں مصروف سنیل کو تازہ دھچکا یہ لگا ہے کہ سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف مقابلے کے بعد ان کا باؤلنگ ایکشن رپورٹ ہوگیا ہے۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک طرف تو وہ ناکام رہے، کولکتہ کو بھی شکست ہوئی لیکن سب سے بڑا دھچکا یہ ہے کہ مقابلے کے بعد میدان میں موجود امپائروں نے ریفری کو رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں انہوں نے سنیل نرائن کی کئی گیندوں کے بارے میں شک ظاہر کیا ہے کہ وہ قانونی حدود کے اندر نہیں تھیں۔

آئی پی ایل 2015ء سے چند روز قبل ہی مشکوک باؤلنگ ایکشن کی لٹکتی تلوار سے چھٹکارہ پانے کے بعد اب یہ نہ صرف سنیل بلکہ کولکتہ کے لیے بھی نئی مصیبت ہے، جو نرائن پر خاصا انحصار کرتا ہے۔ امپائر رچرڈ النگورتھ اور ونیت کلکرنی کی جمع کردہ رپورٹ کے باوجود نرائن اگلے مقابلوں میں گیندبازی کروا سکیں گے، یہاں تک کہ وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی منظور شدہ تنصیب سے اپنے باؤلنگ ایکشن کی بایومکینیکل تجزیہ نہیں کروا لیتے۔ اس کے بعد جانچ کے نتائج آنے تک بھی انہیں گیندبازی کی اجازت ہوگی۔ لیکن اگر اس دوران ایک مرتبہ پھر امپائر نے ان پر شبہ ظاہر کیا تو دوبارہ آئی پی ایل میں باؤلنگ نہیں کروا سکیں گے۔

معلوم ہوا ہے کہ امپائروں کی ان کی "دوسرا" اور کیرم گیند پر شک ہے۔ گزشتہ سال چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں ان کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض اٹھا تھا جس کے بعد وہ فائنل میں کولکتہ کی نمائندگی نہیں کرپائے تھے۔

اب ہوسکتا ہے کہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کولکتہ نرائن کے اگلے مقابلوں میں کھلانے کا خطرہ مول نہ لے لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ "دوسرا" پھینکنے والے گیندبازوں کا مستقبل مخدوش ہے۔ پاکستان کے سعید اجمل فی الحال تو غیر موثر انداز میں کھیل رہے ہیں، لیکن نجانے کب ان کا باؤلنگ ایکشن بھی دوبارہ رپورٹ ہوجائے۔

Facebook Comments