بنگلہ دیش سے شکست، پاکستان کرکٹ کے زوال کی انتہا

پاکستان کے سابق کپتان اور معروف تبصرہ کار رمیز راجہ نے بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کی حالیہ شکست کے بعد اسے قومی کرکٹ کےزوال کی انتہا قرار دیا ہے۔ معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفوسے گفتگو میں رمیز نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ایک بے پتوار کی کشتی دکھائی دے رہی ہے، اور کرکٹ بورڈبھی بے سمت اور نئے خیالات سے عاری دکھائی دیتا ہے۔

پانچ ٹیسٹ اور 22 ایک روزہ مقابلوں میں پاکستان کی قیادت کرنے والے رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ دورۂ بنگلہ دیش کے لیے پاکستان نے جن کھلاڑیوں کا انتخاب کیا، وہ طویل عرصے سے جمود کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ کوچنگ عملہ بھی کچھ نیا کرتا نہیں دکھائی دیتا، نہ ہی کوئی تازہ خیال نظر آتا ہے اور نہ ہی کوئی سمت متعین دکھائی دیتی ہے۔ وہی وکٹیں سنبھالنے اور آخری 10 اوورز میں زور لگانے کی پرانی حکمت عملی۔ یہ تو 80ء اور 90ء کی دہائی کی کرکٹ ہے، جس میں بہتری کے لیے کوچنگ عملے سے بہت امیدیں تھیں لیکن انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ کی ضرورت ہے، جو نوجوان کھلاڑیوں کو جدید کرکٹ کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی "اگر پاکستان میں ممکن نہ ہو تب مشرق وسطیٰ میں ہی، بہرصورت ایسی لیگ کا انعقاد ہونا چاہیے۔ یہ معاملہ اب پیسوں کا نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کی زندگی و موت کا ہے۔"

بنگلہ دیش کے خلاف شکست کو "شرمناک" اور "قومی کرکٹ تاریخ کا بدترین زوال" قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ کھلاڑیوں کے ساتھ تکنیکی و نفسیاتی مسائل ہیں۔ چند کھلاڑیوں کو ماحول نے دباؤ میں رکھا ہوا ہے کیونکہ انہیں یہ یقین ہی نہیں کہ انہیں اگلا میچ کھیلنے بھی دیا جائے گا یا نہیں۔ اس لیے مجموعی طور پر حکمت عملی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میں شکست کے بعد اب 28 اپریل سے دو ٹیسٹ کی سیریز میں بنگلہ دیش کا سامنا کرنا ہے اور رمیز راجہ سمجھتے ہیں کہ یہاں بھی بنگلہ دیش حاوی رہے گا۔ "پاکستان ذہنی و تکنیکی طور پر زخم خوردہ ہے، شدید دباؤ میں ہے اور اس صورتحال میں بنگلہ دیش پر قابو پانے کے لیے اسے جادوئی کارکردگی کی ضرورت ہوگی۔ لیکن کوچنگ عملہ وہی، بیشتر کھلاڑی بھی وہی اور چند اہم کھلاڑی زخمی، اس صورتحال میں پاکستان کے لیے ٹیسٹ سیریز بچانا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔"

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے ہاتھوں ایک روز ہ میں کلین سویپ شکست نے پاکستان کو عالمی درجہ بندی میں ساتویں سے آٹھویں درجے پر لا پھینکا تھا اور واحد ٹی ٹوئنٹی میں ملنے والی ہار نے بھی پاکستان کو تیسری پوزیشن سے محروم کیا۔ اگر، خاکم بدہن، پاکستان دونوں ٹیسٹ مقابلے بھی ہار گیا تو چوتھے سے ساتویں نمبر پر چلا جائے گا۔ البتہ دو-صفر کی شکست اسے ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر لا سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے اگلے دونوں مقابلے بہت زیادہ اہم ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کرکٹ کے آئندہ مستقبل کا انحصار انہی دونوں مقابلوں پر ہے۔

Facebook Comments