ٹیسٹ سیریز، پاکستان کے لیے زندگی و موت کا مسئلہ

عالمی کپ سے قبل اور اس کے بعد ناقص کارکردگی نے پاکستان کرکٹ کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ بنگلہ دیش کے دورے میں شکستوں نے قومی کرکٹ ٹیم کو گویا پہاڑی سے لڑھکتا ہوا پتھر بنا دیا ہے، جس کو نیچے آتا دیکھ کر کوئی نہیں روک پا رہا۔ پہلے ایک روزہ سیریز میں شکست نے عالمی درجہ بندی میں پاکستان کو انتہائی آخری نمبروں تک پہنچا دیا ہے، دنیا کی سرفہرست آٹھ ٹیموں میں نچلے ترین درجے پر۔ واحد ٹی ٹوئنٹی میں ہار سہنے کے بعد یہاں بھی تیسرے مقام سے محروم رہ گئے اور اب ٹیسٹ درجہ بندی میں پاکستان کو بیک وقت خطرہ بھی لاحق ہے اور ایک شاندار موقع بھی حاصل ہے۔

ٹیسٹ کی تازہ ترین درجہ بندی میں پاکستان 103 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر فائز ہے جو انگلستان سے محض ایک پوائنٹ پیچھے ہے۔ اگر پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں دو-صفر سے کامیابی حاصل کرتا ہے تو اس کے پاس موقع ہوگا عالمی درجہ بندی میں تیسرا مقام پانے کا۔ البتہ اس کا انحصار ویسٹ انڈیز اور انگلستان کے مابین جاری سیریز کے آخری ٹیسٹ کے نتیجے پر ہوگا۔ جہاں مقابلے کا نتیجے تک نہ پہنچا یا ویسٹ انڈیز کی جیت پاکستان کو تیسرے نمبر تک آنے کا موقع دے گی البتہ انگلستان کی فتح پاکستان کی ترقی کی راہیں مسدود کردے گی۔

لیکن جو خطرہ ہے، وہ بہت بڑا ہے۔ پاکستان کی سالہاسال کی جدوجہد کے بعد ٹیسٹ اکھاڑے میں حاصل ہونے والے درجے کو ہاتھ سے نکلنے دیر نہیں لگی گی، اگر پاکستان ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کی طرح ٹیسٹ سیریز میں بھی تمام مقابلے ہار گیا۔ اس بھیانک صورت میں پاکستان چوتھے سے ساتویں نمبر پر چلا جائے گا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے درجہ بندی کے نظام کے مطابق درجہ بندی میں بالائی نمبروں پر فائز ملک اگر نچلے درجے کی کسی ٹیم سے شکست کھاتا ہے تو اسے زیادہ پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا۔ پاکستان کے ساتھ بھی یہی ہوسکتا ہے۔ وہ اس وقت چوتھے نمبر پر ہے جبکہ بنگلہ دیش کا درجہ نواں ہے۔ اس کی ترقی کے امکانات تو بہت کم ہیں لیکن اگر وہ دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان کو زیر کرنے میں کامیاب ہوا تو پاکستان 8 قیمتی پوائٹس سے محروم ہوجانے کے بعد ساتویں نمبر پر جاپڑے گا۔

اس ہزیمت سے بچنے کے لیے پاکستان کو ضرورت ہے مصباح الحق کے کرشمے کی، ورنہ اگر سرزمینِ بنگال پر پاکستان کی شکستوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ ذلت بھی پاکستان کی منتظر ہوگی۔

Facebook Comments