محمد حفیظ نے بالآخر ڈبل سنچری بنا ہی ڈالی

نومبر 2014ء کے آخری ایام اور پاکستان تیسرے و آخری ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے مدمقابل تھا۔ پاکستان پہلے روز 3 وکٹوں پر 281 رنز بنانے میں کامیاب رہا جس میں بہت بڑا حصہ محمد حفیظ کا تھا جو 178 رنز بنا چکے تھے اور اپنی پہلی ڈبل سنچری کی جانب گامزن تھے۔ دوسرے روز صبح کے سیشن میں وہ باآسانی آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ڈبل سنچری کا انوکھا سنگ میل صرف تین رنز کے فاصلے پر رہ گیا۔ لیکن منزل قریب آتے ہی ان سے ایسی غلطی ہوگئی، جس کی تلافی ممکن نہ تھی۔ ایش سودھی کی گیند پر پل کرنے کی کوشش ناکام ہوئے اور اسکوائر لیگ پر کیچ نے حفیظ کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ "پروفیسر" ڈبل سنچری کے اتنا قریب پہنچ کر بھی ناکام واپس آئے۔ اس سے تقریباً ڈھائی سال پہلے وہ سری لنکا کے خلاف صرف 4 رنز کے فرق سے اس اعزاز سے محروم ہوچکے تھے۔ رنگانا ہیراتھ کی گیند پر سویپ کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور گیند لیگ اسٹمپ میں جا گھسی۔

دو مرتبہ ڈبل سنچری کے اتنا قریب پہنچنے کے باوجود ناکامی کے بعد حفیظ کو یہ سنگ میل عبور کرنے کی کتنی تمنا ہوگی؟ اس کا محض سوچا ہی جاسکتا ہے۔ 12 سال بین الاقوامی کرکٹ میں گزارنے اور 40 ٹیسٹ مقابلے کھیلنے کے بعد کہیں جاکر حفیظ نے اس منزل کو پا لیا ہے، وہ بھی بہت اہم مقابلے میں،عین اس وقت جب پاکستان کو کسی بلے باز کی طرف سے ایسی اننگز کی سخت ضرورت تھی۔

بنگلہ دیش کے خلاف کھلنا میں جاری پہلے ٹیسٹ سے قبل پاکستان دورے میں تمام ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں شکست سے دوچار ہوا۔ وہ بھی بہت ہی بری طرح۔ کسی مقابلے میں پاکستان میزبان بنگلہ دیش کے سامنے ٹک نہیں پایا اور اس کی ایک جھلک کھلنا ٹیسٹ کے پہلے دن بھی دکھائی دی جب پاکستان نے پانچ کیچ چھوڑے، رن آؤٹ کے مواقع بھی ضائع کیے اور بنگلہ دیش کو پورا پورا موقع فراہم کیا کہ وہ مقابلے پر گرفت مضبوط کرے۔ لیکن دوسرے دن پاکستان بالکل مختلف روپ میں دکھائی دیا، بہت عمدہ کیچ لیے، گیندبازی بہترین کی گئی اور جب بنگلہ دیش کی اننگز 332 رنز پر تمام کی تو پھر بلے بازی میں بھی خوب چلے۔

محمد حفیظ سمیع اسلم کے ساتھ تیز رفتاری سے اننگز کا آغاز کیا اور 50 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ سمیع اسلم ٹی وی امپائر کے مایوس کن فیصلے کا شکار بنے جنہوں نے فیلڈ امپائر سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں آؤٹ قرار دیا لیکن اس کے بعد بنگلہ دیش ایک لمحے کے لیے بھی مقابلے میں نہیں ٹک پایا۔ محمد حفیظ نے اظہر علی کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ پر 227 رنز جوڑ ڈالے، جس میں اظہر کا حصہ 83 رنز کا تھا۔ اس کے بعد حفیظ نے یونس خان اور مصباح الحق دونوں کے ساتھ بھی 50 سے زیادہ رنز کی شراکت داریاں جوڑیں اور پھر خود اس مقام تک پہنچے، جہاں وہ پہلے کبھی نہیں آئے تھے۔ پاکستانی اننگز کے 96 ویں اوور میں حفیظ نے تیج الاسلام کی گیند پر دو رنز حاصل کیے اور اس کے بعد داد بھی وصول کی اور سجدۂ شکر بھی ادا کیا۔ محمد حفیظ 332 گیندوں پر23 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 224 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

بلاشبہ محمد حفیظ کی محدود اوورز کی فارم بھیانک ہے۔ وہ حالیہ کئی مقابلوں میں خود کو ثابت نہیں کرسکے لیکن معاملہ ٹیسٹ کا ہو تو ان سے بہتر کوئی بلے باز نہیں دکھائی دیتا۔ اپنی پچھلی پانچ اننگز میں وہ 642 رنز بنا چکے ہیں، جو کسی بھی پاکستانی بلے باز کا ریکارڈ ہے۔ اپنے پچھلے تین ٹیسٹ مقابلوں میں وہ تین مرتبہ تہرے ہندسے کی اننگز کھیل چکے ہیں بلکہ ایک مرتبہ 96 رنز بھی بنا چکے ہیں۔

محمد حفیظ کی اس اننگز نے پاکستان کو کھلنا میں بالادست مقام تک پہنچا دیا ہے۔ تیسرے دن کا کھیل مکمل ہونے تک پاکستان 5 وکٹوں پر 537 رنز تک پہنچ گیا ہے یعنی اس کی مجموعی برتری 205 رنز کی ہوگئی ہے۔ اگر سب کچھ پاکستان کے منصوبے کے مطابق ہوتا رہا اور ٹیم نے پہلا ٹیسٹ جیت لیا تو محمد حفیظ میچ کے بہترین کھلاڑی بن سکتے ہیں۔

محمد حفیظ کی بہترین ٹیسٹ اننگز

رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
224 332 23 3 بنگلہ دیش کھلنا اپریل 2015ء
197 316 25 3 نیوزی لینڈ شارجہ نومبر 2014ء
196 331 20 1 سری لنکا کولمبو جون 2012ء
143 237 14 0 بنگلہ دیش چٹاگانگ دسمبر 2011ء
119 177 19 1 زمبابوے بلاوایو ستمبر 2011ء
104 266 10 0 ویسٹ انڈیز کراچی نومبر 2006ء
102* 144 11 1 زمبابوے پشاور اگست 2003ء
101* 130 12 2 نیوزی لینڈ ابوظہبی نومبر 2014ء

Facebook Comments