کرس راجرز ایشیز کے بعد بین الاقوامی کرکٹ چھوڑ دیں گے

آسٹریلیا کے اوپننگ بلے باز کرس راجرز نے کہا ہے کہ وہ رواں سال ایشیز سیریز کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔

37 سالہ راجرز نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز تاخیر سے 2008ء میں کیا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ وہ محض 20 ٹیسٹ مقابلوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کر پائے لیکن 4 سنچریوں اور تقریباً 40 کے اوسط کے ساتھ 1535 رنز ان کی صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پہلے ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد انہیں اپنا اگلا مقابلہ کھیلنے کے لیے ساڑھے 5 سال کا طویل انتظار کرنا پڑا اور اس بار راجرز نے مایوس نہیں کیا۔ انگلستان کے خلاف 2013ء کی ایشیز سیریز میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کے ساتھ آسٹریلیا کے نمایاں بلے باز رہے۔پھر اسی سال جوابی ایشیز سیریز میں تو راجرز نے اپنے کمالات بھرپور انداز میں دکھائے۔ ایڈیلیڈ میں 72، پرتھ میں 54، ملبورن میں 61 اور 116 اور سڈنی میں 119 رنز کی اننگز کے ساتھ انہوں نے آسٹریلیا کی کامیابی میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ اپنی دوسری واپسی میں ان کی واحد ناکامی گزشتہ سال پاکستان کے خلاف تھی جب پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کو تین-صفر سے شکست دی تھی۔ البتہ دورۂ جنوبی افریقہ اور اس کے بعد بھارت کے خلاف گھریلو میدانوں پر کھیلی گئی گزشتہ سیریز میں بھی راجرز چھائے رہے، انہوں نے تین ٹیسٹ مقابلوں کی تمام 6 اننگز میں نصف سنچریاں بنائیں۔

اس شاندار فارم کے بعد اب راجرز اپنے کیریئر کے آخری مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ وہ ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے آسٹریلیا کے دستے کا حصہ ہیں اور اگلے ماہ دو ٹیسٹ کھیلنے کے بعد انگلستان روانہ ہوجائیں گے جہاں انہوں نے کئی کاؤنٹی ٹیموں کی جانب سے کھیل چکے ہیں۔ بقول راجرز کے اپنے "ایک ایسے ملک میں بین الاقوامی کیریئر کا اختتام کہ جہاں میں نے بہت کرکٹ کھیلی، منطقی لگتا ہے۔"

کرس راجرز نے "دوسرا موقع" ملنے پر خود کو خوش قسمت قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اس موقع کا بھرپور فائدہ بھی اٹھایا اور اب سمجھتے ہیں کہ یہ بین الاقوامی کرکٹ چھوڑنے کا بہترین وقت ہے۔

راجرز نے 289 فرسٹ کلاس مقابلوں میں لگ بھگ 50 کے اوسط کے ساتھ تقریباً 24 ہزار رنز بنا رکھے ہیں جس میں 72 سنچریاں اور 112 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔

Facebook Comments