سیالکوٹ نے سپر8 ٹی ٹوئنٹی کپ جیت لیا

سیالکوٹ اسٹالینز نے جب سپر8 ٹی ٹوئنٹی کپ میں راولپنڈی ریمز سے شکست کھائی تھی تو ایسا لگ رہا تھا کہ شعیب ملک کے زیر قیادت دستے میں اب پرانا وہ دم خم باقی نہیں رہا، لیکن اس کے بعد سے آخر تک، بلکہ سب سے اہم مقابلوں میں سیالکوٹ نے اتنی ہی جامع کارکردگی دکھائی۔ فائنل میں لاہور لائنز جیسی مضبوط ٹیم کو 74 رنز کےبھاری فرق سے شکست دی اور یوں "ایک مرتبہ پھر" اعزاز جیت لیا۔ بین الاقوامی کھلاڑیوں سے لدی لاہور لائنز کی ٹیم کی نہ باؤلنگ میں چلی اور نہ ہی بیٹنگ میں کوئی کارنامہ دکھا سکا اور 198 رنز کے بھاری ہدف کو تعاقب میں وہ محض 123 رنز ہی اکٹھے کر پایا۔

فیصل آباد کے کھچاکھچ بھرے اقبال اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں سیالکوٹ نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ مختار احمد کی ایک اور ناکامی اور اس کے بعد بلال آصف اور احمد بٹ کی وکٹیں بھی جلد گرجانے کے بعد جب سیالکوٹ پچھلے قدموں پر دکھائی دیتا تھا، نعمان انور ایک مرتبہ پھر سامنے آئے اور ثابت کردیا کہ وہ بڑے مقابلوں کے کھلاڑی ہیں۔ سیمی فائنل میں 80 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد فائنل میں بھی نعمان نے حریف گیندبازوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ صرف 39 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد انہوں نے چوتھی وکٹ پر حارث سہیل کے ساتھ محض 66 گیندوں پر 111 رنز جوڑے۔ سنچری نعمان کی گرفت میں تھی جب قیصر اشرف نے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے صرف 54 گیندیں کھیلیں، 6 چھکے اور 10 چوکے لگائے اور 97 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ نعمان 15 اوورز میں 150 رنز پر ٹیم کو چھوڑ کر گئے جس کے بعد سیالکوٹ نے آخری پانچ اوورز میں مزید 47 رنز جوڑے اور مجموعے کو 197 رنز تک پہنچا دیا۔ حارث 47 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بلے باز رہے ۔ لاہور کی طرف سے اعزاز چیمہ نے 4 اور قیصر اشرف نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ویسے تو ٹی ٹوئنٹی میں 198 رنز کے ہدف کو بڑا تصور کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ فائنل جیسے مقابلے میں ہو تو اس کا نفسیاتی دباؤ ہی خاصا ہوتا ہے، لیکن لاہور کی طویل اور مضبوط بیٹنگ لائن کو دیکھتے ہوئے توقع تھی کہ ایک اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ لیکن پہلی گیند سے ہی سیالکوٹ مقابلے پر چھا گیا اور لاہور ہر گزرتے اوور کے ساتھ دوڑ سے باہر ہوتا چلا گیا۔ بلاول بھٹی نے پہلی گیند پر احمد شہزاد کی وکٹیں بکھیریں۔ آتے ہی دو چوکے لگانے والے محمد حفیظ کی ہمت دوسرے اوور میں جواب دے گئی اور رہی سہی کسر چوتھے اور پانچویں اوور میں کامران اکمل اور ناصر جمشید کے آؤٹ ہونے سے پوری ہوگئی۔ ابتدائی پانچ اوورز میں صرف 25 رنز اور چار کھلاڑی آؤٹ۔ اس کے بعد آخر مقابلے میں رہ کیا گیا تھا؟ عمر اکمل نے 35 اور ان کے بعد سعد نسیم نے 26، عمران علی نے 23 اور امام الحق نے 21 رنز بنائے اور ٹیم 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر صرف 123 رنز ہی بنا پائی۔

سیالکوٹ کی جانب سے بلال آصف، سلطان احمد اور مختار احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

نعمان انور کو دھواں دار بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

یہ قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس کی تاریخ میں آٹھواں موقع تھا کہ سیالکوٹ نے اعزاز جیتا ہو۔

اب پاک-زمبابوے ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ سیریز کا آغاز ہوا ہی چاہتا ہے اور اس ٹورنامنٹ میں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر سلیکٹرز کی نظریں ہوں گی۔

Facebook Comments