نشہ آور شے کا استعمال، رضا حسن پر دو سال کی پابندی

2012ء میں جب پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اپنی کارکردگی کے جوہر دکھا رہا تھا تو ایک نوجوان سب سے نمایاں تھا۔ ٹی ٹوئنٹی جیسی تیز رفتار کرکٹ میں اتنے بڑے ٹورنامنٹ کے دوران چار مقابلوں میں 5 رنز فی اوور کے اوسط سے بھی کم رنز دینا ایک کمال ہے جو ایک 20 سالہ نوجوان نے کر دکھایا۔ یہ تھے پاکستان کے رضا حسن، جو محض دو، ڈھائی سالوں کے بعد طویل پابندی کا نشانہ بن گئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ممنوعہ نشہ آور شے استعمال کرنے پر رضا حسن کے کرکٹ کھیلنے پر دو سال کی پابندی عائد کردی ہے، جس کے دوران نہ صرف وہ کسی بھی سطح پر کرکٹ نہیں کھیل پائیں گے بلکہ اس سے متعلقہ سرگرمی میں بھی شرکت نہیں کرسکیں گے۔ جبکہ انہیں ڈوپنگ کے حوالے سے تربیتی پروگرام میں بھی شرکت کرنا پڑے گی۔

رضا حسن کا ڈوپ ٹیسٹ رواں سال پنٹاگولر کپ میں لیا گیا تھا، جس کے نمونے کراچی میں عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی منظور شدہ تجربہ گاہ میں بھیجے گئے تھے۔ جس کے نتیجے کے مطابق رضا حسن نے نشہ آور شے کا استعمال کیا تھا، جو قانوناً ممنوع ہے اور اس کے بعد قانون کے مطابق انہیں سزا سنائی گئی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ رضا حسن کو 24 مارچ کو اس کی اطلاع دی گئی تھی، اور ان کے بعد اپیل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

22 سالہ رضا حسن اب تک 10 ٹی ٹوئنٹی اور ایک ون ڈے میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال دسمبر میں آخری بار پاکستان کی جانب سے کوئی مقابلہ کھیلا جب وہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میں شریک ہوئے تھے۔ ایک ایسا نوجوان جو مستقبل میں پاکستان کے لیے بائیں ہاتھ کی اسپن گیندبازی میں اہم ثابت ہوسکتا تھا، اپنی نادانی کی وجہ سے روشن مستقبل کو تاریک کر بیٹھا ہے۔

Article Tags

Facebook Comments