لاہور میں بلے بازوں کا دن، پہلا ایک روزہ پاکستان کے نام

بلے بازی کے لیے اتنی سازگار وکٹ کہ ایک ہی دن میں 709 رنز بن گئے اور صرف 8 وکٹیں گریں، اس صورتحال میں پاکستان نے زمبابوے کے خلاف پہلا ایک روزہ جیتا جس کی سب سے خاص بات شعیب ملک کی سنچری کے ذریعے ایک روزہ میں واپسی اور دیگر بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی تھی۔ زمبابوے نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور 376 رنز کے تعاقب میں 334 رنز تک پہنچا لیکن پاکستان کو زیر کرنے کے لیے یہ سب کافی نہ تھا۔

قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کے کپتان اظہر علی نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ جب وہ محمد حفیظ کے ساتھ کھیلنے کے لیے میدان میں اترے تو سہ پہر میں بھی شدید گرمی تھی لیکن ان دونوں بلے بازوں نے ابتدائی سست روی کے بعد خوب بلے چلے۔ زمبابوے کے گیندباز ابتدائی 26 اوورز تک دونوں کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔اظہر اور حفیظ نے پہلی ہی وکٹ پر 170 رنز بنائے اور بدقسمتی سے دونوں سنچری مکمل نہ کرسکے۔ پہلے اظہر علی 79 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے اور ان کے بعد محمد حفیظ کی اننگز 86 رنز پر تمام ہوئی۔

پاکستان ابتدائی 27 اوورز میں ہی 174 رنز بنا چکا تھا اور یہ بہت بڑے مجموعے کی بنیاد تھی جس پر شعیب ملک اور حارث سہیل نے زبردست عمارت تعمیر کی۔ دونوں نے تیسری وکٹ پر 201 رنز کی شراکت داری جوڑی جو آخری اوور کی آخری گیند پر جاکر مکمل ہوئی۔ شعیب ملک نے چھ سال کے طویل عرصے، اور 75بین الاقوامی مقابلوں، کے بعد اپنی پہلی سنچری بنائی۔ وہ دو سال بعد قومی دستے میں شامل ہوئے تھے اور چند روز قبل دونوں ٹی ٹوئنٹی میں ناکامی کے بعد سخت دباؤ میں تھے لیکن 76 گیندوں پر 112 رنز کی اننگز نے ان پر ہونے والی تنقید کو کافی حد تک روک دیا ہے۔ یہ شعیب کی مجموعی طور پر آٹھویں اور لاہور میں تیسری ایک روزہ سنچری تھی۔ ان کی اننگز میں دو چھکے اور 12 چوکے بھی شامل تھے جبکہ حارث سہیل 66 گیندوں پر 89رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ ان کی اننگز دو چھکوں اور 6 چوکوں سے مزین تھی۔ پاکستان کے چاروں ابتدائی بلے بازوں نے 70 سے زیادہ رنز بنائے جو ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا۔

پاکستان نے 375 رنز کا بہت بڑا مجموعہ اکٹھا کیا جو ملک میں کھیلے گئے کسی بھی مقابلے کا سب سے بڑااور پاکستان کا کسی بھی ملک کے خلاف دوسرا سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔

اتنی شاندار بیٹنگ کے بعد پاکستان مطمئن ہوگیا کہ اب وہ شکست نہیں کھائے گا اور بلاشبہ اسےہار نہیں ہوئی لیکن زمبابوے نے جیسا جواب دیا اس نے پاکستان کی باؤلنگ کی قلعی کھول کر رکھ دی۔پاکستان نے 7باؤلرز آزمائےاور 50اوورز کی جدوجہد کے باوجود زمبابوے کی صرف 5وکٹیں حاصل کرسکا، وہ بھی 334رنز کے عوض۔ ہملٹن ماساکازا کے 73 رنز کے بعد سب سے اہم اننگز ایلٹن چگمبورا نے کھیلی جنہوں نے 95 گیندوں پر 117 رنز بنائے۔ یہ زمبابوے کے کپتان کی پہلی ایک روزہ سنچری تھی۔ ویسے تو زمبابوے کسی بھی لمحے جیتنے کی پوزیشن میں نہیں آیا لیکن پھر بھی پاکستان کے لیے بہت سارے سوالات ضرور چھوڑ دیے۔ سوائے وہاب ریاض کے کوئی گیندباز زمبابوے کے لیے خطرہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ پھر اس پر طرہ فیلڈنگ بھی مایوس کن رہی خاص طور پر حماد اعظم کا ایک آسان کیچ چھوڑنا ناقابل برداشت تھا۔

آخرمیں شعیب ملک کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب سیریز کا دوسرا ایک روزہ مقابلہ 29 مئی کو کھیلا جائے گا جہاں جیتنے کی صورت میں پاکستان سیریز بھی حاصل کرلے گا لیکن پاکستان کے لیے تینوں مقابلے جیتنا بہت ضروری ہیں بصورت دیگر عالمی درجہ بندی میں سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

Facebook Comments