آئی سی سی صدارت کے لیے ظہیر عباس نامزد

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی صدارت کا عہدہ بالآخر ایک عرصے کے بعد پاکستان کے پاس آنے والا ہےکیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس کے لیے سابق کپتان ظہیر عباس کو نامزد کردیا ہے۔

آئی سی سی کے صدر کا عہدہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مصطفیٰ کمال کے استعفے کے بعد سے خالی ہے، جنہوں نے عالمی کپ 2015ء کے دوران آئی سی سی پر سخت تنقید کی تھی اور اس کے بعد عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ قواعد کے تحت پاکستان کی باری تھی، اور پاکستان نے بنگلہ دیش کی حمایت کرکے مصطفیٰ کمال کو صدر بنوایا، لیکن اب وہ تو چلتے بنے ہیں اور پاکستان کو ایک مرتبہ پھر یہ ذمہ داری نبھانی ہے۔ چند روز قبل پی سی بی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی اس عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے، حالانکہ وہ اس عہدے کے خالی ہونے سے اب تک امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔ بہرحال، اب ان کے بعد پاکستان نے مختلف سابق کھلاڑیوں میں سے ظہیر عباس کا نام چنا ہے۔

ظہیر عباس نے 1969ء سے 1985ء تک پاکستان کی نمائندگی کی اور 78 ٹیسٹ اور 62 ایک روزہ مقابلے کھیلے۔ بڑی اننگز کھیلنے کی قابلیت کی وجہ سے انہیں 'ایشیائی بریڈمین' کہا جاتا تھا۔ ان کے فرسٹ کلاس اعدادوشمار ان کی عظمت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔ 459 مقابلے اور تقریباً 35 ہزار رنز، جس میں 108 سنچریاں اور 158 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ظہیر عباس پاکستان کرکٹ میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں جن میں ٹیم مینیجر کا عہدہ بھی شامل ہے۔

یکم جولائی کو عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی ظہیر عباس آئی سی سی کے 12 ویں صد بن جائیں گے۔ ان سے قبل صرف احسان مانی ادارے کے واحد پاکستانی سربراہ تھے۔ ویسے اس وقت صدر کا عہدہ بہت اختیارات کا حامل ہوتا تھا، اب اس کی حیثیت محض علامتی ہے۔ آئی سی سی کے دستور میں ہونے والی حالیہ ترامیم کے بعد زیادہ تر اختیار چیف ایگزیکٹو کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں، یا اگر دیگر الفاظ میں کہا جائے تو بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کے ہاتھوں میں۔

Article Tags

Facebook Comments