پاک-بھارت سیریز بن کھلے مرجھاتی ہوئی

پاکستان اور بھارت کے کرکٹ تعلقات گزشتہ 8 سالوں سے تقریباً منجمد ہیں۔ 2012ء کے اواخر میں کچھ برف ضرور پگھلی تھی لیکن معاملہ پھر بھی "چٹ بھی میری، پٹ بھی میری" کے مصداق بھارت کے حق میں ہی رہا۔ اب جبکہ رواں سال دسمبر سے ایک مکمل پاک-بھارت سیریز کے آثار نظر آ رہے تھے، بھارت کی ایک اور ہٹ دھرمی نے ایک تاریخی سیریز کو کھٹائی میں ڈال دیا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل بھی بے دست و پا دکھائی دے رہا ہے۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن کہتے ہیں کہ وہ پاک-بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی کے حق میں ہیں لیکن دونوں ممالک کے بورڈ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ بھارت کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا ے مطابق رچرڈسن نے کہا ہے کہ پاک-بھارت مقابلوں کا باضابطہ انعقاد دنیائے کرکٹ کے لیے بہت اہم ہے اور ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں لیکن دوطرفہ کرکٹ کا معاملہ اب مکمل طور پر دونوں ملکوں کے بورڈز کے ہاتھوں میں ہے اور نئے دستور کے مطابق آئی سی سی اس میں دخل اندازی نہیں کرسکتا۔

پاکستان اور بھارت کی آئندہ سیریز رواں سال دسمبر میں طے شدہ ہے اور منصوبے کے مطابق اس کا میزبان پاکستان ہوگا، لیکن بھارت نہ تو پاکستان کا دورہ کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی تیسرے مقام پر سیریز کھیلنے کا خواہشمند دکھائی دیتا ہے یعنی اس کی مرضی یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم بھارت آئے۔ اب تک تو پاکستان نے کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دکھایا لیکن اب آئی سی سی کے ردعمل کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ معاملہ گڑبڑ ہے۔

پاکستان کے ساتھ آئی سی سی کا رویہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ابھی چھ سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ممکن ہوئی تو آئی سی سی نے ممکنہ حد تک اس کی راہ میں روڑے اٹکائے لیکن خوش قسمتی سے پاک-زمبابوے سیریز خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل ہوئی۔ اب آئی سی سی کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ رہی ہے اور کہتی ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ہم پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی حمایت نہیں کرتے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزاء سیریز تھی، جس میں عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک مضبوط پاکستان کرکٹ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے ضروری ہے۔ رچرڈسن کہتے ہیں کہ اب بھی اگر کوئی ملک اپنی ٹیم پاکستان بھیجتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے بورڈز کا باہمی معاملہ ہوگا۔

بہرحال، اس وقت تک کسی دوسری ٹیم کے پاکستان کے دورے سے بڑھ کر زیادہ اہم یہ ہے کہ دسمبر میں پاک-بھارت سیریز کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بظاہر تو آئی سی سی نے اپنا پلڑا بھارت کے حق میں جھکا دیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کب تک مزاحمت کرتا ہے۔

Facebook Comments