انوکھا واقعہ، 9 کھلاڑی صفر پر آؤٹ

کرکٹ سمیت ہر کھیل میں کوئی دن ایسا ہوتا ہے جس میں کھلاڑی اور ٹیم بہت اچھا کھیلتی ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمام تر کوشش رائیگاں جاتی ہے لیکن ایسا شاذونادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی ٹیم اتنا برا کھیلے کہ عبرت کی مثال بن جائے۔ چیک جمہوریہ میں کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک روزہ کرکٹ مقابلے کے دوران ایک کلب ٹیم کے 9 کھلاڑی صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔

چیک کرکٹ یونین پرو40 لیگ کے ایک مقابلے میں پراگ کرکٹ کلب کی سیکنڈ الیون 126 رنز کے تعاقب میں صرف 54 رنز پر ڈھیر ہوئی لیکن اس مجموعے تک پہنچنے کے لیے اس کے 9 کھلاڑیوں کو صفر کی ذلت اٹھانا پڑی۔ واحد قابل ذکر اننگز آدتیہ جسوال نے کھیلی جنہوں نے 49 گیندوں پر 43 رنز بنائے اور ناقابل شکست رہے۔ ان کے علاوہ صرف ابھی سامنتھ ہی وہ واحد کھلاڑی تھے جو کوئی رن بنا سکے۔ باقی کپتان ایرک واکر سمیت تمام ہی کھلاڑی صفر پر آؤٹ ہوئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ آدتیہ کے بعد سب سے زیادہ 'فاضل' تھے، جن کی تعداد 10 تھی۔ حریف ٹیم بوہیمیئن کرکٹ کلب کے گیندباز سدیش وکرماسنگھے نے چھ وکٹیں حاصل کیں اور ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

چیک جمہوریہ 2000ء سے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا ایفیلیٹ رکن ہے اور یہاں دو بڑی ایک روزہ لیگز کھیلی جاتی ہیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی لیگ اس کے علاوہ ہے۔

ویسے گزشتہ سال انگلستان کا ویرل کرکٹ کلب ایک مقابلے کے دوران صرف تین رنز پر ڈھیر ہوگیا تھا۔ ہیس لنگٹن کے خلاف مقابلے میں اس کی اننگز میں سب سے زیادہ رنز فاضل تھے جن کی تعداد محض دو تھی جبکہ 10 کھلاڑی صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔ صفر پر ہی ویرل کی آٹھ وکٹیں گرنے کے بعد گیارہویں نمبر پر آنے والے بلے باز کونر ہڈسن واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے بلے کے ذریعے ایک رن بنایا تھا۔

اگر ہم بین الاقوامی سطح پر دیکھیں تو ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرز کی کرکٹ میں ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھ کھلاڑی ہی صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں۔ ٹیسٹ میں یہ ریکارڈ چار ملکوں کے پاکستان، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور بھارت کے پاس ہے۔ گزشتہ سال انگلستان کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ کے دوران ایک ہی اننگز میں بھارت کے چھ کھلاڑی مرلی وجے، چیتشور پجارا، ویراٹ کوہلی، رویندر جدیجا، بھوونیشور کمار اور پنکج سنگھ صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔

ایک روزہ میں پانچ مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ چھ کھلاڑی ایک ہی اننگز میں اسکور کو چھیڑے بغیر آؤٹ ہوئے ہوں اور ان میں سے تین مرتبہ یعنی 1987ء، 1993ء اور 2012ء میں یہ "کارنامہ" پاکستان کے بلے بازوں نے انجام دیا ہے۔

Article Tags

Facebook Comments