اوول میں رنز کا طوفان، نیوزی لینڈ نے بازی مار لی

ابھی چند روز قبل ہی انگلستان نے اپنی ایک روزہ تاریخ کا سب سے بڑا مجموعہ اکٹھا کیا لیکن ابھی اس فتح کا نشہ اترا ہی نہیں تھا کہ نیوزی لینڈ نے انگلستان کے خلاف اپنا سب سے بڑا اسکور بنا کر حساب چکتا کردیا لیکن دونوں مقابلوں میں جو فرق تھا، وہ یہ تھا کہ اس بار بڑا گھمسان کا رن پڑا یہاں تک کہ بارش نے مقابلے کونیوزی لینڈ کے حق میں جھکا دیا اور بالآخر مہمان ڈک ورتھ لوئس طریقے کے تحت 13 رنز سے دوسرا ایک روزہ جیت گیا۔

اوول میں ہونے والے دوسرے ایک روزہ مقابلہ میں آسمان سے بارش اور میدان سے چوکے اور چھکے برسے۔ مقابلے کے دوران 763 رنز بنے جو انگلستان میں ہونے والے کسی بھی ایک روزہ مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ رنز کے اس انبار تلے ہونے والا مقابلہ تماشائیوں کے لیے یادگار تھا۔ پہلے نیوزی لینڈ نے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور کپتان برینڈن میک کولم اور مارٹن گپٹل کی 61 رنز کی شراکت داری کے ذریعے مستحکم آغاز لیا۔ 18 اوورز میں 114 رنز بن چکے تھے لیکن دونوں اوپنرز میدان بدر تھے۔ گپٹل 50 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ میک کولم نے 39 رنز بنائے۔ یہاں کین ولیم سن اور روس ٹیلر نے اپنی بلے بازی کا جادو جگایا۔ دونوں نے تیسری وکٹ پر 121 رنز جوڑے۔ ولیم سن بدقسمتی سے اپنی ساتویں ایک روزہ سنچری مکمل نہ کرسکے اور 88 گیندوں پر 93 رنز کی ایک شاندار اننگز کھیلنے کے بعد بیٹنگ پاور پلے کے پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہوگئے۔ البتہ روس ٹیلر انگلش گیندبازوں پر چھائے رہے اور 96 گیندوں پر 119 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

ولیم سن کی روانگی کے بعد نیوزی لینڈ کی اننگز کو گرانٹ ایلیٹ اور لیوک رونکی کی 'مختصر، پر اثر' اننگز نے خوب فائدہ پہنچایا۔ ایلیٹ 15 گیندوں پر 32 جبکہ رونکی 16 گیندوں پر 33 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ نیوزی لینڈ آخری 88 گیندوں پر 163 رنز بنانے میں کامیاب رہا اور محض 5 وکٹوں کے نقصان پر 398 رنز تک پہنچ گیا۔ یہ ایک روزہ کرکٹ میں نیوزی لینڈ کا دوسرا سب سے بڑا مجموعہ تھا اور انگلستان کے خلاف سب سے بڑا اسکور۔

انگلستان کی جانب سے کرس جارڈن سب سے مہنگے گیندباز ثابت ہوئے۔ جنہوں نے 9 اوورز میں 97 رنز بنائے اور ایک وکٹ حاصل کی۔ بین اسٹوکس نے 66 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ایک، ایک وکٹ اسٹیون فناور لیام پلنکٹ کو بھی ملی۔

399 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں انگلستان کو ویسی ہی کارکردگی دہرانے کی ضرورت تھی، جو انہوں نے پہلے ایک روزہ میں دکھائی تھی۔ جیسن روئے اور ایلکس ہیلز نے 85 رنز کا بہترین آغاز فراہم کیا تو مقامی تماشائیوں کو امید ہو چلی لیکن محض 15 رنز کے اضافے سے تین وکٹوں کا گرجانا انگلستان کے لیے بڑا نقصان تھا۔ پہلے روئے 39 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور پھر جو روٹ اور ایلکس ہیلز ایک ہی اوور میں اس وقت مچل سینٹنر کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے جب مجموعہ 100 رنز کو چھوا ہی تھا۔

انگلستان مقابلے سے مکمل طور پر باہر دکھائی دیتا تھا جب کپتان ایون مورگن کی 47 گیندوں پر 88 رنز کی اننگز نے میچ میں جان بھردی۔ 6 شاندار چھکوں اور اتنے ہی چوکوں سے مزید اننگز عین اس وقت مکمل ہوئی جب انگلستان کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ بیٹنگ پاور پلے کی دوسری ہی گیند پر مورگن مچل میک کلیناگھن کے ہاتھون آؤٹ ہوگئے اور یہیں سے مقابلہ نیوزی لینڈ کے حق میں جھکتا چلا گیا۔ انگلستان کو تقریباً 15 اوورز میں 125 رنز کی ضرورت تھی اور اس مرحلے پر مورگن کا آؤٹ ہونا ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا۔ انگلستان کے پاس اب صرف چار وکٹیں تھیں اور اگلے ہی اوور میں سام بلنگز کے آؤٹ ہونے سے یہ تعداد مزيد گھٹ کر چار رہ گئی۔

یہاں لیام پلنکٹ اور عادل رشید نے کمال کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دونوں نے شاید ہی کسی گیندباز کو بخشا ہو، جس کے اوور میں کم از کم ایک مرتبہ گیند نے چوکے یا چھکے کی راہ نہ دیکھی ہو۔ صرف 50 گیندوں پر 76 رنز کا اضافہ کرکے وہ انگلستان کو اس مقام تک لے آئے کہ اسے آخری 6 اوورز میں 54 رنز کی ضرورت تھی لیکن یہاں اچانک بارش نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور انگلستان کے لیے جو تھوڑے بہت امکانات باقی تھے، ان کا بھی خاتمہ کردیا۔ جب کھیل دوبارہ شروع ہوا تو انگلستان کو 2.1 اوورز میں 34 رنز کا ہدف ملا۔

برینڈن میک کولم کا فیصلہ جو بہت بڑی غلطی سمجھا جا رہا تھا، بہترین ثابت ہوا جب انہوں نے اپنے بھائی ناتھن میک کولم کو گیند پکڑائی۔ انہوں نے دوسری گیند پر چھکا کھانے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور پہلے 30 گیندوں پر 44 رنز بنانے والے پلنکٹ کو آؤٹ کروایا اور اوور کی آخری گیند پر ٹم ساؤتھی اور ٹرینٹ بولٹ کے ایک شاندار کیچ کی بدولت عادل رشید کی اننگز بھی تمام کردی۔ 26 گیندوں پر 34رنز بنانے والے عادل رشید کا شاٹ لانگ آن باؤنڈری کے قریب ساؤتھی نے اس وقت پکڑا جب وہ باؤنڈری سے باہر جاسکتے تھے،انہوں نے گیند پکڑی اور میدان سے باہر جانے سے پہلے اسے قریب آنے والے ٹرینٹ بولٹ کی جانب اچھال دیا جنہوں نے کیچ تھام دیا اور یوں انگلستان کی نویں وکٹ بھی گرگئی۔ آخری بلے باز کے لیے ایک اوور میں 24 رنز بنانا ممکن نہ تھا او ر یوں نیوزی لینڈ نے مقابلہ 13 رنز سے جیت لیا۔ یہ ایک روزہ کرکٹ میں نیوزی لینڈ کی 300 ویں فتح تھی، جس میں کلیدی کردار ادا کرنے پر روس ٹیلر کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

انگلستان کے لیے حوصلہ افزاء بات یہ رہی کہ اس نے ابتدائی دونوں مقابلوں میں بہت جامع بلے بازی دکھائی ہے اور توقع ہے کہ وہ آئندہ مقابلوں میں بھی ایسی ہی کارکردگی دکھائے گا۔

پانچ ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کا تیسرا معرکہ 14 جون کو ساؤتھمپٹن میں ہوگا جہاں دونوں ٹیمیں برتری حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائیں گی۔

Facebook Comments