ویسٹ انڈیز کی نظریں سیریز اور درجہ بندی میں چھٹی پوزیشن پر

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا دوسرا و آخری معرکہ آج سے باسیتیرے، سینٹ کٹس کے وارنر پارک میں شروع ہوگا۔ ویسٹ انڈیز جسے، حیران کن طور پر سیریز میں 1-0 کی ناقابل شکست برتری حاصل ہوچکی ہے، دو سال کے طویل عرصے کے بعد کوئی سیریز جیتنے کے قریب تر ہے۔ اس نے آخری مرتبہ فروری 2009ء میں انگلستان کو ہوم سیریز میں شکست دی تھی اور اب 2011ء میں اس کی نظریں 2-0 سے جیتنے پر مرکوز ہیں۔

پاکستان کو سیریز میں شکست سے بچانا مصباح الحق کا اصل امتحان ہوگا

دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ جارج ٹاؤن، گیانا میں کھیلا گیا جہاں ویسٹ انڈیز نے انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو 40 رنز سے زیر کر لیا تھا۔ اس فتح میں اہم ترین کردار ویسٹ انڈیز کی شاندار باؤلنگ اور ان کے لوئر آرڈر کی قیمتی شراکت داریاں تھیں۔ دوسری جانب پاکستان کے باؤلرز پاکستان کو دو مرتبہ میچ میں واپس لے کر آئے لیکن بلے باز اپنے ساتھی گیند بازوں کے پیدا کردہ مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور یوں ایک مرتبہ پھر ویسٹ انڈیز میں سیریز جیتنے کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔

اس وقت دونوں ٹیموں کے لیے سب سے اہم مسئلہ عالمی درجہ بندی کا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان یہ ٹیسٹ دراصل عالمی درجہ بندی میں چھٹی پوزیشن کا مقابلہ ہے۔ اگر پاکستان جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ اپنی چھٹی پوزیشن برقرار رکھے گا لیکن اگر ویسٹ انڈیز جیتتا ہے، یا میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوتا ہے، تو پاکستان ساتویں پوزیشن پر چلا جائے گا۔ تاہم ویسٹ انڈیز جیسی کمزور اور کم درجے کی ٹیم کے خلاف سیریز جیتنے میں ناکامی سے پاکستان کو قیمتی ریٹنگ پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا۔

ویسٹ انڈیز کی اپنی سرزمین پر پاکستان کے خلاف تاریخ بہت شاندار ہے۔ 22 میں سے صرف 4 ٹیسٹ میچز میں ہی اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اور 11 میں فتح نے اس کے قدم چومے ہیں۔ 1958ء میں پہلے دورے سے لے کر آج تک تمام دوروں میں پاکستان ہمیشہ بغیر سیریز جیتے وطن واپس لوٹا ہے اور موجودہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں شکست کے ساتھ ہی روایت برقرار رہے گی کیونکہ اب پاکستان دوسرا ٹیسٹ جیت کر بھی سیریز اپنے نام نہیں کر سکتا۔

ویسٹ انڈیز ایک روزہ میچز کی سیریز کے آخری دونوں معرکوں اور پہلے ٹیسٹ میں فتوحات کے ساتھ اب پاکستان کے خلاف مسلسل تین مرتبہ جیت چکا ہے اور اس کا حوصلہ بلاشبہ پاکستان سے کہیں زیادہ بلند ہوگا۔

رام نریش سروان اور شیونرائن چندرپال جیسے منجھے ہوئے بلے بازوں کی سیریز میں واپسی سے اس کی بلے بازی کو تو تقویت ملی ہی ہے لیکن پہلے میچ میں روی رامپال اور کپتان ڈیرن سیمی نے جس طرح کی گیند بازی کی ہے، اس سے ٹیم کے حوصلے بہت بلند ہوئے ہوئے ہیں۔ تاہم ویسٹ انڈیز کی بھی پاکستان کی طرح ایک کمزوری ہے اور وہ ہے 'غیر مستقل مزاجی'۔ ویسٹ انڈیز عرصے سے مستقل کارکردگی پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور یہی بات ہے جو پاکستان کے امکانات کو پیدا کرتی ہے۔ اگر پاکستان ویسٹ انڈیز کی اس خامی کا فائدہ اٹھاتا ہے تو اسے کامیابی مل سکتی ہے، لیکن اس کے لیے اسے اپنی اسی خامی پر قابو پانا ہوگا۔

پاکستان کو سب سے زیادہ بلے بازی اور پھر فیلڈنگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں ویسٹ انڈین بلے بازوں کو 5 مواقع دینا ہی پاکستان کی شکست کا اصل سبب تھا، کیونکہ اگر پاکستان یہ مواقع ضایع نہ کرتا تو ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگ میں برتری حاصل ہی نہ ہوتی۔ دوسری جانب مصباح الحق اور عمر اکمل کے علاوہ دیگر بلے بازوں کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی خصوصا اوپنر محمد حفیظ اور توفیق عمر کو۔ اگر وہ پاکستان کو اچھا آغاز دینے میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان کے مڈل آرڈر کے بلے بازوں کا حوصلہ بلند ہوگا۔

اگر میدان کا جائزہ لیا جائے تو وارنر پارک، سینٹ کٹس ویسٹ انڈیز میں 'بلے بازوں کی جنت' سمجھا جاتا ہے ۔ یہاں آج تک صرف دو ٹیسٹ میچ کھیلے گئے جو "ہائی اسکورنگ" مقابلے تھے اور ان کا کوئی نتیجہ بھی برآمد نہیں ہوا۔ پہلی مرتبہ یہاں جون 2006ء میں ویسٹ انڈیز اور بھارت کا مقابلہ ہوا تھا جس میں ویسٹ انڈیز نے ڈیرن گنگا اور رامنریش سروان کی سنچریوں کی بدولت پہلی اننگ میں 581 رنز جوڑے تھے۔ جواب میں بھارت وی وی ایس لکشمن کی سنچری کی بدولت 362 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گیا اور ویسٹ انڈیز نے دوسری اننگ میں 172 رنز بنا کر بھارت کو 392 رنز کا ہدف دیا جو 298 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ تک ہی پہنچ پایا۔ یوں یہ میچ بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گیا۔

دوسری مرتبہ یہاں ویسٹ انڈیز کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے ہوا۔ یہ مقابلہ بھی "ہائی اسکورنگ ڈرا" تھا۔ جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور گریم اسمتھ، ہاشم آملہ، ژاک کیلس اور اے بی ڈی ولیئرز کی سنچریوں کی بدولت 543 رنز بنا کر اننگ ڈکلیئر کر دی۔ ویسٹ انڈیز نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور شیونرائن چندرپال کے 166 اور برینڈن نیش کے 114 رنز کی بدولت 546 کا مجموعہ اکٹھا کیا۔ لیکن ان طویل پہلی اننگز کے باعث میچ کے بیشتر دن ضایع ہو گئے اور جنوبی افریقہ آخری دن کے اختتام تک دوسری اننگ میں 235 رنز ہی بنا پایا اور ویسٹ انڈیز کو دوسری اننگ کا موقع بھی نہ ملا۔ یوں میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔

ان دونوں میچز سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وارنر پارک کی پچ بلے بازوں کے لیے کس قدر مددگار ہے۔ یہاں کھیلے گئے محض دو میچز میں2737 رنز بنے ہیں اور محض 49 وکٹیں گری ہیں۔

لیکن ویسٹ انڈین حلقوں سے جو خبریں سامنے آ رہی ہیں وہ یہ ہیں کہ ویسٹ انڈین بجائے اسپنرز اور بلے بازوں کے لیے مددگار پچ بنانے کے لیے سیمرز کے لیے موزوں پچ بنا سکتا ہے۔ کیونکہ اس وقت روی رامپال اور دیگر ویسٹ انڈین سیمرز اپنی بھرپور فارم میں ہیں اور پاکستانی بلے باز ان کے خلاف جدوجہد کرتے دکھائی دے رہے ہیں بالکل اسی طرح پاکستانی اسپنرز خصوصا سعید اجمل کے سامنے ویسٹ انڈیز کے کسی بلے باز کی دال نہیں گل رہی، اس لیے ویسٹ انڈیز سعید اجمل کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایسی پچ چاہے گا جس پر اسپنرز کو بہت زیادہ مدد نہ ملے۔

ویسٹ انڈین کوچ اوٹس گبسن کے بیانات سے بھی یہ بات ہی سامنے آئی ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ پچ سیمرز کے لیے مددگار ہو۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستانی بلے بازوں کے لیے اور زیادہ مشکل صورتحال ہو جائے گی جو گزشتہ میچ میں بھی ویسٹ انڈین سیمرز کو کھل کر نہیں کھیل پائے تھے۔ البتہ خوش آئند اس لحاظ سے ہوگی کہ پاکستان کے پاس عمر گل، وہاب ریاض اور تنویر احمد کی صورت میں تین بہترین سیمرز موجود ہیں اور اگر پچ ان کے لیے مددگار ہو تو پاکستان ویسٹ انڈیز کو پریشان کر سکتا ہے۔ تاہم اب تک کی خبروں کے مطابق یہ روایتی سینٹ کٹس کی وکٹ ہی ہے جو بلے بازوں کے لیے بہترین قرار دی جاتی ہے۔

کیونکہ پچ اسپنرز کے لیے مددگار نہیں ہے اس لیے ممکن ہے کہ پاکستان عبد الرحمن کی جگہ تنویر احمد کو ٹیم میں جگہ دے جبکہ دوسری جانب ڈیوون اسمتھ کی مسلسل ناکامی کے باعث کریگ براتھویٹ کو موقع دیا گیا ہے۔ یہ پہلا ٹیسٹ جیتنے والے ویسٹ انڈین اسکواڈ میں واحد تبدیلی ہوگی۔

Facebook Comments