انگلستان کا ریکارڈ تعاقب، سیریز دلچسپ مرحلے میں داخل

ایک بہت بڑے ہدف کے تعاقب میں انگلستان نے کپتان ایون مورگن اور جو روٹ کی شاندار سنچریوں اور ریکارڈ شراکت داری کی بدولت یادگار کامیابی حاصل کرکے سیریز کو دلچسپ مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ ٹرینٹ برج میں ہونے والے چوتھے ایک روزہ میں انگلستان کی 7 وکٹوں سے بھرپور کامیابی نے سیریز کو دو-دو سے برابر کردیا ہے اور اب سیریز کے فیصلے کا انحصار 20 جون کو چیسٹر-لی-اسٹریٹ میں ہونے والے آخری مقابلے پر ہے۔ ویسے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ انگلستان اور نیوزی لینڈ کی سیریز انگلش نہیں بلکہ بھارتی کنڈیشنز میں کھیلی جا رہی ہے۔ ایسی وکٹوں پر کہ جہاں انگلستان جیسی بیٹنگ لائن بھی مسلسل چوتھے ایک روزہ میں 300 کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

ناٹنگھم میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور بیٹنگ کا ایک ایک جامع مظاہرہ کرتے ہوئے 349 رنزکا بھاری مجموعہ حاصل کیا۔ کین ولیم سن 90 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بلے باز رہے جبکہ مارٹن گپٹل اور گرانٹ ایلیٹ نے نصف سنچریاں بنائیں۔ آخری اوورز میں مچل سینٹنر کی دھواں دار بلے بازی، جس میں انہوں نے عادل رشید سے ایک ہی اوور میں 28 رنز بھی لوٹے، کے ذریعے بنائے گئے 19 گیندوں پر 44 رنز نے اننگز کو یکدم پر لگا دیے۔

اب انگلستان کے سامنے 350 رنز کا ہدف تھا، یعنی ایک انجانی منزل، کیونکہ اس نے کبھی اتنے بڑے ہدف کا کامیابی سے تعاقب نہیں کیا تھا۔ یہاں تک کہ اپنے گھریلو میدانوں پر تو وہ کبھی 300 رنز کا ہدف بھی حاصل نہیں کرسکا، اس لیے انگلستان کو ایسی کارکردگی کی ضرورت تھی جو تاریخ کو پلٹ دے۔ اس سے بڑھ کر سیریز میں شکست کا خوف۔ پہلے مقابلے میں کامیابی کے بعد انگلستان مسلسل دو میچز ہار چکا تھا اور سیریز میں اپنے امکانات زندہ رکھنے کے لیے اسے لازمی فتح حاصل کرنا تھی۔ اس لیے انگلستان کو ایک جارحانہ آغاز کی ضرورت تھی، ایک ایسی شروعات جو نیوزی لینڈ کے حوصلے ابتداء ہی میں توڑ دے۔ اوپنرز ایلکس ہیلز اور جیسن روئے نے ایسا ہی کیا۔ ان کی برق رفتار شراکت داری 11 ویں اوور میں ہی 100 رنز کو چھو رہی تھی۔ بالخصوص ہیلز بہت خطرناک موڈ میں دکھائی دیے۔انہوں نے مچل میک کلیناگھن کو ایک ہی اوور میں دو چھکے اور دو چوکے رسید کرکے 22 رنز لوٹے اور کسی حد تک عادل رشید کا بدلہ لے لیا۔ انگلستان کے لیے منہ زور گھوڑے کو لگام دینے کے لیے میٹ ہنری آئے اور اپنے ابتدائی دو اوورز میں ہی دو وکٹیں حاصل کرلیں۔ ہنری نے پہلے 38 گیندوں پر 67 رنز بنانے والے ہیلز کو کلین بولڈ کیا اور اگلے اوور میں روئے کو بھی ٹھکانے لگا دیا جنہوں نے 38 رنز بنائے تھے۔

اوپنرز نے تو اپنا کام پورا کردیا، اب بوجھ کپتان مورگن اور اِن فارم جو روٹ کے کاندھوں پر منتقل ہوگیا تھا۔ گزشتہ دو مقابلوں کی شکست کو دیکھا جائے تو ان دونوں کو یہ بار خود اٹھانے کی ضرورت تھی، کیونکہ اگر معاملہ آنے والے بلے بازوں کے ہاتھ میں چلا جاتا تو شاید نتیجہ بھی پچھلے مقابلوں جیسا ہی نکلتا۔ پھر قسمت بھی دونوں کے ساتھ تھی۔ صرف 9 رنز کے انفرادی اسکور پر روٹ کا سلپ میں کیچ چھوڑا گیا۔ دونوں نے نیوزی لینڈ کی فیاضی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور بیٹنگ پاورپلے کے آغاز تک انگلستان کو 259 رنز تک لے گئے۔ یعنی 148 رنزکا اضافہ وہ پاور پلے سے پہلے ہی کرچکے تھے۔اس مرحلے کے پانچ اوورز کامیابی سے مکمل کرنے اور 50قیمتی رنز حاصل کرنے کے بعد انگلستان ہدف سے صرف 41رنز کے فاصلے پر تھا اور 11 اوورز کا کھیل باقی تھا۔ جب مورگن صرف 82 گیندوں پر 113 رنز کی شاندار باری کھیل کر آؤٹ ہوگئے۔ مورگن اور روٹ کی شراکت داری 198 رنز کی رہی، جو نیوزی لینڈ کے خلاف کسی بھی وکٹ پر انگلستان کی سب سے بڑی رفاقت کا نیا ریکارڈ تھا۔

اس کے بعد نیوزی لینڈ نےمقابلے میں واپس آنے کی کوشش ضرور کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ بین اسٹوکس نے 44 ویں اوور میں تین چوکوں اور ایک چھکے کے ذریعے مقابلے کا فیصلہ کردیا۔ انگلستان نے 350 رنز کا ہمالیہ جیسا ہدف محض 44 اوورز میں صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ روٹ 97 گیندوں پر 13 چوکوں کی مدد سے 106 رنزبنا کر ناقابل شکست رہے جبکہ اسٹوکس نے 19 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

مورگن کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا،جو انگلستان کو ایک یادگار سیریز جتوانے کی کوشش کریں گے۔ آپ کی طرح ہمیں بھی 20 جون کا شدت سے انتظار ہے جب ریورسائیڈ گراؤنڈ میں ہمیں سیریز کا فیصلہ ملے گا۔

Facebook Comments