بنگال کے شیروں نے بھارت کا بھی شکار کرلیا

بنگال کے شیروں نے پاکستان کے بعد بھارت کو بھی پچھاڑ دیا اور یوں آئندہ چیمپئنز ٹرافی میں جگہ بنا لی ہے۔ پہلے ایک روزہ مقابلے میں بھارت کی 'مہان' بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا دینے والے مستفیض الرحمٰن نے ایک اور شاندار کارکردگی کے ذریعے بنگلہ دیش کی فتح کو ممکن بنایا جس کی بدولت اس نے تاریخ میں پہلی بار بھارت کو کسی سیریز میں شکست دی ہے۔

میرپور، ڈھاکہ میں ہزاروں تماشائیوں کے سامنے بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں نے ویسی ہی کارکردگی پیش کی، جس کی ان سے توقع کی گئی تھی۔ پہلے ہی اوور میں مستفیض نے روہیت شرما کو ٹھکانے لگایا تو گویا سلسلہ وہیں سے جڑ گیا، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ صفر کی ہزیمت کا شکار ہونے کے بعد جب روہیت میدان بدر ہوئے تو ویراٹ کوہلی کی باری آئی۔ جنہوں نے شیکھر دھاون کے ساتھ مل کر مجموعے کو 74 رنز تک پہنچایا۔ یہاں ناصر حسین نے اپنی پہلی، اور کاری، ضرب لگائی۔ کوہلی صرف 23 رنز بنانے کے بعد ان کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ انتہائی گرم ماحول میں وہ پویلین پہنچے تو بھارتی قائد مہندر سنگھ دھونی خود کھیلنے کے لیے آئے۔ رنز بنانے کی رفتار سست ہو چلی تھی۔ 21 ویں اوور میں کب برقی اسکور بورڈ پر 109 رنز کا ہندسہ جگمگا رہا تھا تو ناصر حسین نے شیکھر دھاون کی صورت میں بنگلہ دیش کو تیسری کامیابی دلائی۔ دھاون 60 گیندوں پر 53 رنز بنانے کے بعد وکٹ کیپر کو کیچ دے گئے۔ دھونی کو مردِ بحران سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے بھارت کو کئی ایسے مقابلے جتوائے ہیں جہاں امکانات معدوم ہو رہے تھے۔ لیکن آج دوسرے اینڈ سے وکٹیں روکنا ان کے بس میں نہ تھا۔ امباتی رایوڈو روبیل حسین کے ہاتھوں صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے تو سریش رینا کی صورت میں دھونی کو ایک قابل اعتماد ساتھی ملنے کی امید ہوئی۔ دونوں نے 53 رنز کا اضافہ بھی کیا۔ لیکن جیسے ہی مستفیض واپس آئے، بھارت نے ہتھیار ڈال دیے۔ پہلے رینا کی 34 رنز کی اننگز تمام ہوئی، پھر بیٹنگ پاور پلے کے آخری اوور میں دھونی کا کام تمام ہوا، جنہوں نے 47 رنز بنائے اور پھر اگلی ہی گیند آکشر پٹیل کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوئی۔ مستفیض یہیں نہیں رکے بلکہ اگلے اوور میں روی چندر آشون کو بھی وکٹوں کے پیچھے آؤٹ کروایا۔

بھارت کی اننگز کا 44 واں اوور جاری تھا جب بارش برسی، اور خوب برسی۔ کافی دیر کھیل رکا رہا اور جب بحال ہوا تو میچ کو 47 اورز فی اننگز تک محدود کردیا تھا۔ بھارت نے دوبارہ کھیلنا شروع کیا اور مستفیض کی پہلی ہی گیند پر رویندر جدیجا بولڈ ہوگئے۔ اگلے اوور میں روبیل حسین نے بھوونیشور کمار کو آؤٹ کرکے بھارتی اننگز کی بساط لپیٹ دی۔

پوری ٹیم 45 اوورز میں محض 200 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ جس میں سب سے اہم کردار مستفیض کا تھا، جنہوں نے 10 اوورز میں 43 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ روبیل اور ناصر نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

پہلے ایک روزہ میں، جو مستفیض کے کیریئر کا پہلا مقابلہ بھی تھا، پانچ وکٹیں کرنے کے بعد دوسرے میچ میں مزید بہتر کارکردگی دکھائی اور صرف 43 رنز دے کر بھارت کی 6 وکٹیں ٹھکانے لگا کر اسے محض 200 رنز تک محدود کردیا۔

بنگلہ دیش میں ہونے والی گزشتہ کئی مقابلوں کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو میزبان کے لیے 47 اوورز میں 200 رنز کا ہدف معمولی دکھائی دیتا تھا اور اسے مزید آسان بنایا سومیا سرکار اورلٹن داس کی 52 رنز کی شراکت داری نے۔ سرکار 34 جبکہ داس 36 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ ان سے قبل تمیم اقبال صرف 13 رنز بنا پائے تھے۔ بنگلہ دیش تہرے ہندسے میں پہنچنے سے پہلے ہی تین وکٹوں سے محروم ہوگیا تھا، لیکن مقابلے سے باہر نہیں ہوا۔ چوتھا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب 152 رنز کے مجموعے پر مشفق الرحیم رن آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد باقی رنز شکیب الحسن اور شبیر رحمٰن نے باآسانی بنائے۔ بنگلہ دیش 38 اوورز میں ہی 4 وکٹوں کے نقصان پر ہدف تک پہنچ گیا، اور یوں 6وکٹوں سے مقابلہ جیت گیا۔ شکیب 62 گیندوں پر 51 رنزکی عمدہ اننگز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جبکہ شبیر نے 22 رنز بنائے۔

مستفیض کو مسلسل دوسرے ایک روزہ میں بھی میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔ ملکی تاریخ میں شاید ہی کسی نوجوان گیندباز نے کیریئر کا آغاز اتنے شاندار انداز میں کیا ہو۔ اب جبکہ بنگلہ دیش سیریز بھی جیت چکا ہے، تو مستفیض سیریز کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز کے لیے بھی مضبوط امیدوار ہیں۔ اگر انہوں نے 24 جون کو ہونے والے تیسرے ایک روزہ میں بھی ایسی کارکردگی دہرائی تو بھارت کے لیے یہ دورہ بھیانک خواب ثابت ہوگا۔

Facebook Comments