پاکستان اور یونس کانڈی کے معجزے کے منتظر

کولمبو میں دو دن کے کھیل کے بعد پاکستان پچھلے قدموں پر دکھائی دیتا ہے۔ پہلے روز صرف 138 رنز پر ڈھیر ہوجانے کے بعد اب اسے 166 رنز کے بڑے خسارے کا سامنا ہے، اور یہ مزید بڑھ بھی سکتا ہے کیونکہ سری لنکا کی ایک وکٹ ابھی باقی ہے۔ کیا یہاں سے مقابلے میں واپس آنے کی کوئی امید باقی ہے؟ کیا پاکستان کبھی 100 رنز سے زیادہ کے خسارے کے بعد سری لنکا کو شکست دے پایا ہے؟ جواب ہے، جی ہاں! آج سے 9 سال پہلے ایک بار ایسا بھی ہوا ہے۔

یہ اپریل 2006ء کے ابتدائی ایام تھے جب پاکستان اور سری لنکا سیریز کے دوسرے، آخری اور فیصلہ کن مقابلے کے لیے کانڈی میں آمنے سامنے آئے تھے۔ پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوجانے کےبعد سیریز کے نتیجے کا انحصار اسی مقابلے پر تھا جہاں پاکستان کی دعوت پر سری لنکا نے پہلے بلے بازی سنبھالی۔ سری لنکا محمد آصف کی تباہ کن باؤلنگ کو سہنے میں کسی حد تک کامیاب ہوگیا۔ آصف اس زمانے میں اپنے عروج پر تھے، صرف 44 رنز دے کر 6 حریف بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا لیکن سری لنکا کمار سنگاکارا کے 79 اور تھیلان سماراویرا کے 65 رنز کی بدولت 279 رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ کوئي بڑا مجموعہ نہیں تھے لیکن پاکستان کی پہلی باری میں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہمالیہ جتنا بلند لگنے لگا۔ پاکستان نے جوابی اننگز کی شروعات کی تو 57 رنز کا عمدہ آغاز پایا اور 71 رنز تک محض ایک ہی وکٹ کھوئی تھی، لیکن اس کے بعد بیٹنگ لائن عظیم آف اسپن گیندباز مرلی دھرن کے ہتھے چڑھ گئی۔ انہوں نے پاکستان کے مڈل آرڈر کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ محمد یوسف کے علاوہ کامران اکمل، فیصل اقبال اور عبد الرزاق کی قیمتی وکٹیں مرلی کے ہتھے چڑھیں اور سوائے یونس خان کے کوئی بلے باز 35رنز تک بھی نہ پہنچ سکا۔ پاکستان کی پہلی اننگز محض 170 رنز پر مکمل ہوئی یعنی آخری 9 وکٹیں صرف 99 رنز کے اضافے سے گریں اور پاکستان 109 رنز کے خسارے میں چلا گیا۔

تہرے ہندسے کی برتری کے زعم میں مبتلا سری لنکا نے دوسرے روز چائے کے وقفے کےبعد اپنی دوسری باری سنبھالی، لیکن برتری کا نشہ کچھ ہی دیر میں ہرن ہوگیا۔ محمد آصف قہر بن کر سری لنکا کے بلے بازوں پر ٹوٹے۔ ان کی صرف 27 رنز دے کر 5 وکٹوں کی کارکردگی نے سری لنکا کی دوسری اننگز 73 رنز پر ہی تمام کردی۔ آصف کے شکاروں میں اوپل تھارنگا، کمار سنگاکارا، تھیلان سمارا ویرا، تلکارتنے دلشان اور فرویز مہاروف بھی شامل تھے۔

ایک ایسی پچ پر جہاں 243 ایک دن میں 20 وکٹیں گرچکی ہوں، وہاں پاکستان کی 'ناقابل اعتبار' بیٹنگ لائن کے لیے 183 رنز کا ہدف ہرگز آسان نہیں تھا۔ نووان کولاسیکرا، فرویز مہاروف اور لاستھ مالنگا کی گیندیں بارہا بیٹسمینوں کے بلّوں کے بہت قریب سے گزرتیں اور یہ مہمانوں کی خوش قسمتی تھیں کہ چھوئے بغیر نکل جاتیں، یا پھر اگر بلے کے کنارے کو مس بھی ہوجاتی تو فیلڈرز کے ہاتھوں تک پہنچنے کا شرف نہ حاصل کرتیں۔ تیسرے روز کھانے کے وقفے سے قبل پاکستان ایک وکٹ کے نقصان پر 90 رنزبنا چکا تھا۔ یونس خان پراعتماد انداز میں کھیل رہے تھے اور انہیں اندازہ تھا کہ اگر مقابلے کو پھنسنے سے بچانا ہے تو بلے بازی کی حکمت عملی بدلنی ہوگی۔ کھانے کے وقفے کے بعد یونس اور فرحت نے 10 اوورز میں 62 رنز کا اضافہ کرکے سری لنکا کے بڑھتے قدموں پر روک لگائی اور پاکستان نے 8 وکٹوں سے باآسانی کامیابی حاصل کی۔ عمران فرحت 65 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ یونس 98 گیندوں پر 73 رنز کی ناقابل شکست و عمدہ اننگز کھیل کر پاکستان کو مقابلے اور سیریز میں کامیابی تک لائے۔ محمد آصف دو مقابلوں میں 17 وکٹیں حاصل کرنے پر سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے جبکہ میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز تو ویسے ہی ان کے لیے تھا۔

یونس خان کانڈی کی اس کامیابی کو اپنے کیریئر کی یادگار ترین فتح قرار دیتے ہیں، کیا اب وہ کولمبو میں اپنے 100 ویں ٹیسٹ میں ناقابل فراموش کارکردگی دکھا کر پاکستان کو ایک اور سیریز جتوا سکیں گے؟ ویسے اس کا انحصار محض یونس یا بلے بازوں پر نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے گیندبازوں کو بھی محمد آصف جیسی کارکردگی دکھانی ہوگی جو زخمی وہاب ریاض کی عدم موجودگی میں بہت مشکل دکھائی دیتی ہے۔

Facebook Comments