پاکستانی بلے باز پھر ناکام، ویسٹ انڈیز کی گرفت مضبوط

پاکستانی ٹاپ آرڈر بلے بازوں کی غیر ذمہ داری کے باعث پاکستان ٹاس جیت کر بھی میچ پر گرفت نہ پا سکا اور اظہر علی اور عمر اکمل کی نصف سنچریوں کے باوجود 6 وکٹوں کے نقصان پر محض 180 رنز بنا پایا۔

بارش سے کئی مرتبہ متاثر ہونے والے پہلے دن پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ کنڈیشنز یا پچ نہیں صرف اور صرف آخری اننگ میں ہدف کا تعاقب کرنے سے بچنا تھا۔ اگر کنڈیشنز اور پچ کو دیکھا جاتا تو پاکستان کو پہلے فیلڈنگ کرنی چاہیے تھی کیونکہ ابرآلود موسم میں ایک ہارڈ پچ پر پاکستان کے سیمرز کو بہت زیادہ مدد ملتی۔ وارنر پارک، باسیتیرے، سینٹ کٹس کی یہ وکٹ روایتی طور پر ہمیشہ بلے بازوں کے لیے مددگار ہوتی ہے، اور مختصر باؤنڈریز رنز بنانے میں بلے بازوں کو مدد دیتی ہیں لیکن پاکستان بلے باز ان میں سے کسی بھی ایڈوانٹیج کافائدہ نہ اٹھا پائے۔

مصباح الحق مایوسی کے عالم میں پویلین لوٹتے ہوئے

بہرحال، مصباح الحق کا یہ فیصلہ ابتداء ہی سے غلط ثابت ہو گیا جب روی رامپال نے پہلے ہی اسپیل میں توفیق عمر (11 رنز)، محمد حفیظ (8 رنز) اور اسد شفیق (صفر) کو پویلین کا راستہ دکھا کر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سخت مشکل میں ڈال دیا۔ پاکستان کے دونوں اوپنرز ایک مرتبہ پھر کوئی اچھا آغاز فراہم کرنے میں ناکام رہے اور گزشتہ میچ کی طرح اس مرتبہ بھی بغیر کوئی اہم اننگ کھیلے میدان بدر ہوئے اور ٹیم کو شدید دباؤ میں ڈال گئے۔ رہی سہی کسر اسد شفیق کے آؤٹ ہونے نے پوری کر دی۔ گو کہ ابتدائی اوورز میں باؤلرز کو بہت زیادہ سوئنگ نہیں مل رہا تھا لیکن رامپال نے رفتار اور اچھال کا بھرپور استعمال کیا اور پاکستان کو محض 24 کے مجموعی اسکور پر ایسا تہرا جھٹکا لگایا کہ وہ پورے دن سنبھل نہیں پایا۔

اس نقصان کو پورا کرنے کےلیے پاکستان کے مڈل آرڈر کی جانب سے کوئی بہت ہی اعلیٰ کارکردگی کی ضرورت تھی۔ مصباح الحق اور اظہر علی نے ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالنے کی کوشش کی اور انتہائی سست رفتاری کے ساتھ اننگ کو آگے بڑھایا۔ دونوں کے کھیلنے کی رفتار اتنی سست تھی کہ پاکستان کا فی اوور رن اوسط بمشکل 2 رنز تھا۔ دونوں کھلاڑیوں نے 25 اوورز میں 50 رنز کی ساجھے داری کی۔ اس موقع پر دیوندر بشو نے ویسٹ انڈیز کی دن کی سب سے قیمتی وکٹ مصباح الحق کی صورت میں دلائی۔ 68 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 25 رنز بنانے والے مصباح ایک اسٹروک کھیلنے کی کوشش میں مارلون سیموئلز کو کیچ دے بیٹھے اور یوں پاکستان کو 74 پر اپنی چوتھی وکٹ بھی گنوانا پڑی۔

اس مرحلے پر ایک جانب سے اظہر علی نے سست رفتاری اور دوسرے اینڈ سے عمر اکمل نے تیز رفتاری کے ساتھ کھیلنے کی اچھی حکمت عملی بنائی اور پاکستان کو میچ میں واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پانچویں وکٹ پر 93 رنز کی سب سے طویل شراکت قائم کی۔ اس میں زیادہ حصہ عمر اکمل کا تھا جنہوں نے 56 رنز بنائے۔ اور روایتی انداز میں ایک جارحانہ اسٹروک کھیلنے کی کوشش میں تھرڈ مین پر کیچ دے بیٹھے۔ ان کا یوں غیر ذمہ دارانہ انداز میں آؤٹ ہونا پاکستان کو ایک مرتبہ پھر مہنگا پڑا کیونکہ کچھ ہی دیر بعد پاکستان کے ٹاپ اسکورر اظہر علی انتہائی ناقص انداز میں رن آؤٹ ہو گئے۔ عمر اکمل نے دن کے واحد چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے 88 گیندوں پر 56 رنز بنائے اور جب تک وہ اظہر علی کے ساتھ موجود تھے پاکستان میچ میں مکمل طور پر واپس آتا دکھائی دیتا تھا لیکن بارش سے بارہا متاثر ہونے والے پہلے روز کے اختتامی لمحات میں یکے بعد دیگرے دونوں جمے ہوئے بلے بازوں کا آؤٹ ہونا پاکستان کے لیے خطرے کی علامت بن گیا ہے۔

اظہر علی 196 گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 67 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے، گو کہ وکٹ کیپر محمد سلمان اپنی وکٹ کی قربانی دے کر انہیں بچا سکتے تھے لیکن ناتجربہ کاری کے باعث وہ ایسا کرنےمیں ناکام رہے اور پاکستان کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔

جب کم روشنی کے باعث امپائرز نے دن کے اختتام کا اعلان کیا تو پاکستان کا مجموعی اسکور 180 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ تھا اور کریز پر محمد سلمان 8 اور عبدالرحمن 1 رنز کے ساتھ موجود تھے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے رامپال نے 3 جبکہ ڈیرن سیمی اور دیوندر بشو نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں میدان میں اترنے والی پاکستانی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور پہلے ٹیسٹ میں ناکام ثابت ہونے والے عمر گل کی جگہ تنویر احمد کو شامل کیا گیا۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز نےایک حیران کن اور ایک ممکنہ تبدیلی کی۔ کندھے کی سوجن کے باعث گزشتہ میچ کے حقیقی ہیرو شیونرائن چندرپال کو باہر کر دیا گیا ان کی جگہ مارلون سیموئلز کو 3 سال بعد کسی ٹیسٹ میں کھیلنے کا موقع دیا گیا جبکہ ڈیوون اسمتھ کی جگہ نوجوان کھلاڑی کریگ بریتھویٹ کو اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کا موقع دیا گیا۔

پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز

دوسرا ٹیسٹ 20 تا 24 مئی 2011ء

بمقام وارنر پارک، باسیتیرے، سینٹ کٹس

ٹاس: پاکستان (پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ)

پہلے دن کے اختتام پر اسکور کارڈ

Facebook Comments