’’ہیڈن کو باہر بٹھانا کیرئیر کا مشکل ترین فیصلہ تھا‘‘

بات ہو ایشز کرکٹ سیریز کی اور جوش و خروش ، فتح کے جشن اور شکست کے غم کے ساتھ ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندیوں کا ذکر نہ ہو بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ تیسرے ٹیسٹ میں شاندار کامیابی کے بعد جہاں ایک طرف انگلستان فتح کے نشے میں چُور ہے تو دوسری طرف شکست خوردہ آسٹریلیا اِس بات پر غور و فکر میں مبتلا کہ آخر غلطی کہاں ہوئی ہوئی کہ جس نے لارڈز کی فتح کے بعد بلند حوصلوں کو ایک بار پھر پاش پاش کردیا۔ بسِ اِنہی غلطیوں میں سے ایک غلطی تجربہ کار وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن کو بٹھانا تھا، یہ کہنا ہے آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے کوچ ڈیرن لیمن کا۔ جنہوں نے محض 3 دن میں ختم ہونے والے ایجبسٹن ٹیسٹ میں 8 وکٹوں کی کراری شکست کھانے کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ بریڈ ہیڈن کو بٹھانا اُن کے کیرئیر کا سب سے مشکل فیصلہ تھا۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ لارڈز ٹیسٹ سے قبل بریڈ ہیڈن کی بیٹی کی طبیعت خراب ہوگئی تھی جس کے سبب بریڈ ہیڈن کو مجبوراً وہ ٹیسٹ چھوڑنا پڑا۔ نتیجتاً آسٹریلیا نے نوجوان وکٹ کیپر پیٹر نیول کو ٹیسٹ کیپ دینے کا فیصلہ کیا۔ نوجوان کھلاڑی نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اچھی کارکردگی دکھائی اور پہلے ٹیسٹ کی پہلی ہی اننگز میں کارآمد 45 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگز میں اُن کو بلے بازی کا موقع ہی نہ ملا جبکہ انہوں نے وکٹوں کے پیچھے7کھلاڑیوں کا شکار کیا۔ شاید یہی وہ کارکردگی تھی جس کی بنیاد پر ڈیرن لیمن کو ہیڈن جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو کو بٹھانے کامشکل ترین فیصلہ کرنا پڑا۔ لیکن سابق آسٹریلوی کھلاڑی رکی پونٹنگ، شین وارن، میتھیو ہیڈن اور مختلف حلقوں میں اِس فیصلے پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ فیصلہ درحقیقت غیر تحریری معاہدے’’فیملی فرسٹ پالیسی‘‘ کی خلاف ورزی ہے، جو خود کوچ ڈیرن لیمن کے ماتحت بنایا گیا تھا، جس میں یہ طے ہوا ہے کہ کھیل سے زیادہ اہمیت گھر والوں کی ہے اور کسی بھی ذاتی نوعیت کے کام کی وجہ سے کھیل کو چھوڑا جاسکتا ہے۔

دوسری طرف لیمن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ہیڈن وہ کھلاڑی ہیں جن کو صرف میں ٹیم میں کھیلتا نہیں دیکھنا چاہتا بلکہ ٹیم کا ہر ہر کھلاڑی یہ چاہتا ہے کہ وہ ٹیم کا حصہ رہیں مگرچونکہ گزشتہ ایشز سریز کے بعد سے ہیڈن کی فارم مسلسل خراب چل رہی ہے اور وکٹ کیپر نے جو آخری 12 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اُن میں محض 16.2 کی اوسط سے 250 رنز بنائے ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ 21 میں سے 16 باروہ بولڈ بھی ہوئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہیڈن اچھی فارم میں نہیں ہے۔

کوچ ڈیرن لیمن کا مزید کہنا تھا کہ ہم ہیڈن اور اُن کی فیملی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ہم مجبور ہیں کہ ٹیم کا انتخاب تمام تر جذبات سے ہٹ کر میرٹ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔

اِس بیان کے بعد جب لیمن سے کپتان مائیکل کلارک کی کارکردگی کے حوالے سے پوچھا گیا تو اُن کا یہی کہنا تھا کہ ہم سب اُن کی فارم کے حوالے سے پریشان ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ وہ اگلے ٹیسٹ میں واپس آئیں گے اور ٹیم کوفتح سے ہمکنار کروائیں گے۔ ساتھ ہی لیمن کا کہنا تھا کہ کلارک ٹیم کی قیادت کررہے ہیں اور اُن کو ٹیم سے باہر کرنا ممکن نہیں۔ جب سے وہ کپتان بنے ہیں وہ اچھی کارکردگی دکھارہے ہیں اور ہم اُمید کررہے ہیں کہ آگے بھی سب اچھا ہوگا۔ ہماری کوشش ہے کہ اگلے میں تمام ہی کھلاڑی اچھا کھیلیں اور میں جیتیں۔

ایشیز سیریز کا چوتھا اور اہم ترین ٹیسٹ 6 اگست سے ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں شروع ہوگا جہاں آسٹریلیا کو لازمی کامیابی حاصل کرنی ہے بصورت دیگر انگلستان سیریز جیت لے گا یا پھر ناقابل شکست برتری حاصل کرلے گا۔

Facebook Comments