نیوزی لینڈ کی سیریز میں شاندار واپسی

نیوزی لینڈ نے دوسرے ایک روزہ مقابلے میں زمبابوے کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر نہ صرف پہلے میچ میں اپنی شکست کا بدلہ لے لیا ہے بلکہ سیریز میں بھی شایانِ شان انداز میں واپسی کی ہے۔

ہرارے میں ہونے والے دوسرے مقابلے میں نیوزی لینڈ کا پلڑا ابتدا سے ہی بھاری رہا۔پہلے میچ میں ہدف کا کامیابی سے تعاقب کرنے کے باوجود زمبابوے نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ابتداء میں ہی غلط ثابت ہوا۔ چوتھے اوور میں پہلے نقصان کے بعد وکٹیں گرنے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب زمبابوے کی آدھی ٹیم محض 68 رنز پر پویلین لوٹ گئی تھی۔ یہ صورتحال دیکھ کر اس کا تہرے ہندسے تک پہنچنا بھی مشکل دکھائی دے رہا تھا۔

لیکن پھر میدان میں آمد ہوئی سکندر رضا کی جو’’ آگیا تے چھاگیا‘‘۔چھٹی وکٹ کے لیے سکندر رضا اور شاں ولیمز کے درمیان 60 رنز کی شراکت داری نے زمبابوے کو کچھ سنبھالا دیا۔ یہ شراکت داری مزید جاری رہتی لیکن بدقسمتی سے ولیمز رن آوٹ ہوگئے۔ ان کی رخصتی کے بعد اگلے آنے والے بلے باز گریم کریمر اور پراسپر اُتسیا کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور زمبابوے کے 8 کھلاڑی محض 146 رنز پر آؤٹ ہوچکے تھے۔ دونوں کھلاڑیوں کو بالترتیب ایش سودھی اور ناتھن میک کولم نے آؤٹ کیا تھا۔

اب اننگز خاتمے کے قریب تھی اور مقابلہ پوری طرح نیوزی لینڈ کی گرفت میں تھا لیکن مقدر کے سکندر نے شاید یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اتنی آسانی سے ہار نہیں مانیں گے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی تیسری ایک روزہ سنچری مکمل کی بلکہ ساتویں نمبر پر تہرے ہندسے کی اننگز کھیلنے والے زمبابوے کی تاریخ کے پہلے بلے باز بھی بن گئے۔ انہوں نے نویں وکٹ کے لیے تناشے پنیانگرا کے ساتھ مل کر 89 رنز کا اضافہ کیا جو اس وکٹ پر زمبابوے کی سب سے بڑی شراکت داری ہے۔ دونوں کی محنت رنگ لائی اور زمبابوے نے آل آؤٹ ہوئے بغیر 50 اوورز میں 236 بنالیے ۔ اِس مجموعے کو دیکھ کر مشکل آغاز کے بعد مناسب اختتام ہی کہا جاسکتا ہے، ایک ایسا اختتام جس کے دفاع کے لیے باؤلرز کو اپنی بساط سے بڑھ کر کارکردگی دکھانی پڑے۔ بہرحال، نیوزی لینڈ کی جانب سے سب سے کامیاب بولر بھارتی نژاد لیگ اسپنر ایش سودھی تھے جنہوں نے 10 اوورز میں محض 38 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔

اگرچہ 237 رنز کا ہدف مشکل نہیں تھا لیکن شائقین کرکٹ کی جانب سے یہ اُمید کی جارہی تھی کہ میچ کسی حد تک دلچسپ ضرور ہوگا۔ پھر زمبابوے کو ایک تاریخی سیریز جیتتے ہوئے دیکھنے کی خواہش بھی کسی اپ سیٹ کی متمنی تھی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ ہر گزرتے اوور کے ساتھ تماشائیوں کی امیدوں پر پانی پھرتا چلا گیا اور نیوزی لینڈ نے بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 43 ویں اوور میں ہدف حاصل کرلیا۔ ٹم لیتھم نے اپنے ایک روزہ کیریئر کی اولین سنچری بنائے اور 110 رنز کے ساتھ میدان سے واپس آئے جبکہ ان کے ساتھی مارٹن گپٹل نے 116 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔

یہ دوسرا موقع تھا کہ نیوزی لینڈ نے کے دونوں اوپنرز نے کسی مقابلے میں سنچری بنائی ہو اور ساتھ ہی زمبابوے کو 10 وکٹوں سے ہرانے کا بھی یہ دوسرا واقعہ ہی تھا۔

اب دونوں ٹیمیں جمعہ 7 اگست کو ہرارے ہی میں تیسرا اور حتمی ایک روزہ مقابلہ کھیلیں گی جہاں کامیابی کی صورت میں سیریز کے فاتح کا فیصلہ ہوجائے گا۔

Facebook Comments