بلے بازوں کا راج، 7 مہینوں میں ریکارڈ 85 سنچریاں

کچھ عرصے سے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ صدائیں بلند کی جا رہی ہیں کہ کرکٹ میں اب توازن باقی نہیں رہا اور کھیل بہت زیادہ بلے بازوں کی جانب جھک گیا ہے۔ جب یہ آواز توانا ہونے لگی تو بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے بھی کچھ نمائشی اقدامات کیے ہیں تاکہ گیندبازوں کو سکھ کا سانس ملے۔ پاور پلے کو محدود کرکے اور فیلڈنگ پابندیوں میں آسانیاں پیدا کی گئی ہیں لیکن پھر بھی 2015ء ابتدائی 7 ماہ میں ہی کئی ریکارڈز توڑ چکا ہے۔

زمبابوے اور نیوزی لینڈ کے مابین کھیلے گئے دوسرے ایک روزہ میں نیوزی لینڈ کے اوپنرز ٹام لیتھم اور مارٹن گپٹل نے سنچریوں کے ذریعے اپنی ٹیم کو باآسانی 236رنز کے ہدف تک پہنچایا ۔ یہ تعاقب میں نیوزی لینڈ کی سب سے بڑی افتتاحی شراکت داری تھی اور تاریخ میں محض دوسرا موقع کہ ان کے دونوں اوپنرز نے سنچریاں بنائی ہوں۔ لیکن ہمارے لیے تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہی سال 2015ء میں بننے والی سنچریوں کی تعداد 85 تک پہنچ گئی ہے جو ایک روزہ کرکٹ کی 44 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔

2014ء میں 121 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے کھیلے گئے جن میں کل 79 سنچریاں بنیں، جو ایک ریکارڈ تھا لیکن رواں سال تک ابتدائی 7 ماہ میں ہی یہ تعداد 85 تک جا پہنچی ہے اور کوئی بعید نہیں کہ پہلی بار سال میں 100 سنچریاں بھی بن جائیں کیونکہ ابھی سال ختم ہونے میں تقریباً پانچ مہینے باقی ہیں۔

سال 2015ء میں اب تک 103 مقابلے کھیلے جا چکے ہیں جن میں 46 ہزار 818 رنز بن چکے ہیں، وہ بھی 32.44 کے ریکارڈ اوسط کے ساتھ، اس سے پہلے اتنے زیادہ اوسط کے ساتھ کبھی رنز نہیں بنے۔ علاوہ ازیں، اسٹرائیک ریٹ میں بھی بہت نمایاں بہتری آئی ہے۔ رواں سال بلے بازوں کا اسٹرائیک ریٹ تقریباً 89 تک پہنچ چکا ہے جو 2014ء میں 83 تھا۔ رنز کی بہتی گنگا میں بلے بازوں نے اتنی بڑی تعداد میں سنچریوں کے ساتھ 232 نصف سنچریاں بھی بنائی ہیں۔

عالمی کپ میں ریکارڈ تعداد میں رنز، سنچریوں، چوکوں اور چھکوں کے بعد اب نئے قوانین کھیل کو کتنا متوازن بنائیں گے؟ اس کا اندازہ آئندہ چند ماہ میں ہوگا لیکن ابھی تک تو بلے بازوں کا راج ہے اور اس امر کی شہادت حالیہ تمام ایک روزہ سیریز بھی دے رہی ہیں۔

Virat-Kohli

ایک سال میں سب سے زیادہ ایک روزہ رنز

سال مقابلے رنز بہترین انفرادی اننگز اوسط اسٹرائیک ریٹ سنچریاں نصف سنچریاں
2015ء 103 46818 237* 32.44 88.94 85 232
2014ء 121 54062 264 29.86 83.30 79 292
2013ء 136 55908 209 28.83 80.07 77 279
2007ء 191 76466 181* 28.23 77.43 75 428
2009ء 150 62197 194* 29.06 79.91 68 325
2010ء 142 59168 200* 28.33 77.95 65 303
2011ء 146 60022 219 28.20 78.90 63 337
2002ء 145 58366 159* 28.14 75.67 62 310
2006ء 160 63277 175 26.82 73.69 60 331
2003ء 147 53887 172* 26.44 70.89 58 264

 

Facebook Comments