ایشیائی ٹیموں سے نمٹنے کے لیے انگلستان کی جے وردھنے پر نظر

آپ نے بھی کئی بار سنا ہوگا اور ہم بھی اکثر سنتے ہیں کہ ایشیا کی ٹیمیں بس اپنی ہی وکٹوں پر اچھا کھیلتی ہیں اور یہیں فتح سمیٹنے کی ماہر ہیں۔ اگر اِن ٹیموں میں اتنی ہی قابلیت ہے تو برطانیہ اور آسٹریلیا کی وکٹوں پر بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر کیوں نہیں منواتیں؟ لیکن کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ برطانیہ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں بھی تو اپنی ہی وکٹوں میں شیر بنتی ہیں، ایشیا آکر اُن کی حالت بھی بھیگی بلی جیسی ہی ہوتی ہے۔

اگر اب بھی کسی کو اِس بات سے اختلاف ہے تو اُن سے التماس ہے کہ وہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی حالیہ خواہش کو غور سے دیکھے جس کے مطابق وہ سری لنکا کے سابق کپتان اور لیجنڈری بلے باز مہیلا جے وردھنے کو بطور بیٹنگ کنسلٹنٹ ٹیم کے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے مگر بات چیت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جے وردھنے کی میعاد کے حوالے سے ابھی متضاد اطلاعات گردش کررہی ہیں لیکن کہا یہ جارہا ہے کہ معاہدہ کچھ عرصے کے لیے ہی ہوگا جیسے پاکستانی لیگ اسپنر مشتاق احمد کے ساتھ انگلینڈ نے کیا تھا۔

خبروں کے مطابق جے وردھنے کو پاکستان کے خلاف اکتوبر سے شروع ہونے والی سیریز سے پہلے پہلے ٹیم کا حصہ بنالیا جائے گا۔ اِس سیریز کے دوران دونوں ٹیمیں 3 ٹیسٹ، 4 ایک روزہ میچز اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز میں نبرد آزما ہوں گی۔ آخری بار جب انگلستان نے پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات میں سیریز کھیلی تھی تو اسے تین عالمی نمبر ایک ہونے کے باوجود تین-صفر کی کلین سویپ شکست کا سامنا ہوا تھا۔ اس لیے جے وردھنے کو رکھنے کا مقصد پاکستان سمیت ایشیا بھر بہتر کھیل پیش کرنا ہے۔ کیونکہ اگلے دو سال انگلینڈ کو صرف پاکستان سے ہی نہیں کھیلنا بلکہ اِس دوران وہ بھارت اور بنگلہ دیش کا دورہ بھی کرے گا۔ پھر 2016ء میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ انعقاد بھی ہونا ہے، جو بھارت میں کھیلا جائے گا۔

کہا یہ بھی جارہا ہے کہ جب تک معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کرلے گا اُس وقت یہ امکان بھی روشن ہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ جے وردھنے کو روک لے اور ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کے لیے کوئی ذمہ داری سونپ دے کیونکہ جے وردھنے اپنی قوم کے لیے ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں اور اگر وہ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد غیر ملکی ٹیم کی کوچنگ کے لیے چلے گئے تو یہ سری لنکا کرکٹ کے لیے مایوس کن خبر ہوگی۔

Facebook Comments