وسیم اکرم کی گاڑی پر فائرنگ، عظیم گیندباز محفوظ

کراچی بلکہ پاکستان بھر میں ایک مسئلہ کافی عرصے سے عوام کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے لیکن آج ایک بڑے واقعے نے دنیا بھر کی توجہ اس کی جانب مبذول کروا دی ہے۔ کراچی میں ایک بزعم خود وی آئی پی نے نہ صرف عظیم گیندباز وسیم اکرم کی گاڑی کو ٹکر ماری بلکہ بعد میں ہونے والی تلخ کلامی کے دوران ایک فائر بھی کر ڈالا، جس کے نتیجے میں گولی وسیم اکرم کی گاڑی کو لگی البتہ وہ محفوظ رہے۔

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی اہم شاہراہ کارساز روڈ پر پیش آنے والے اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی تہلکہ مچ گیا۔ ابتداء میں یہ خبر پیش کی گئی کہ وسیم اکرم پر فائرنگ ہوئی ہے البتہ معاملہ کچھ دیر بعد واضح ہوا۔ دراصل سہ پہر ساڑھے تین بجے کے قریب ایک گاڑی نے اسی شاہراہ پر وسیم اکرم کی کار کو ٹکر ماری، جسے وہ خود چلا رہے تھے۔ اس حادثے کے بعد تلخ کلامی کا آغاز ہوا اور بعد میں ٹکر مارنے والی گاڑی میں موجود نشے میں دھت شخص نے ایک فائر بھی کیا۔ بعد ازاں وسیم اکرم بحفاظت نیشنل اسٹیڈیم پہنچے جو وقوعے سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ٹکر مارنے والی گاڑی کا نمبر اور دیگر تفصیلات پولیس کے حوالے کردی گئی ہیں۔ جس کے بعد پولیس نے ملوث گاڑی کا پتہ لگا لیا ہے اور آئندہ کچھ دیر میں اس حوالے سے گرفتاری بھی متوقع ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف گاڑیاں آپس میں ٹکرائیں تھیں، جس کے بعد وسیم اکرم نے مذکورہ گاڑی کا تعاقب کیا اور تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ اسی دوران مذکورہ گاڑی، جس میں تین افراد سوار تھے، میں سے ایک فائر ہوا۔ بعد ازاں وسیم اکرم کو پہچاننے پر حملہ آور گاڑی فرار ہوگئی۔

واقعے کے بعد نیشنل اسٹیڈیم میں کرک نامہ سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ یہ محض روڈ پر ہونے والا جھگڑا تھا، جو دنیا بھر میں ہوتے ہیں اور ایسا واقعہ کہیں بھی پیش آ سکتا ہے۔ اسے مجھ پر حملے یا فائرنگ سے تعبیر نہ کیا جائے اور نہ ہی اسے کرکٹ سے جوڑا جائے۔وسیم اکرم نے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو تمام تفصیلات سے آگاہ کردیا ہے اور اس معاملے پر اقدام اٹھائے گی۔

وسیم اکرم تیز گیندبازوں کی تربیت کے لیے اس وقت قومی کیمپ میں شریک ہیں جو اِس وقت نیشنل اسٹیڈیم، کراچی میں جاری ہے۔

Article Tags

Facebook Comments