اسٹورٹ براڈ کی تباہ کن باؤلنگ ریکارڈز کی نظر میں

ایشیز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ سے قبل جب دونوں ٹیموں کے کپتان میدان میں ٹاس کے لیے اترے تو ان کی للچائی ہوئی نگاہیں وکٹ پر تھیں۔ دعائیں ایلسٹر کک کی پوری ہوئیں، جنہوں نے ٹاس جیتا اور فوری طور پر گیندبازی کا فیصلہ کیا جبکہ مائیکل کلارک کے اوسان تو وہیں خطا ہوچکے تھے۔ کچھ ہی دیر میں اندازہ ہوگیا تھا کہ آسٹریلیا کو آخر کس چیز کی تشویش تھی۔ باؤلنگ کے لیے مددگار نظر آنے والی وکٹ اور آسمان پر چھائے بادل، اور سامنے اسٹورٹ براڈ اور اسٹیون فن۔ آسٹریلیا صرف اور صرف 60 رنز پر ڈھیر ہوگیا جس میں براڈ نے صرف 15 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کیں۔

انگلستان چند ہی اوورز میں بھول گیا کہ ٹرینٹ برج آنے سے قبل اسے یہ پریشانی تھی کہ جیمز اینڈرسن کے بغیر وہ کس طرح آسٹریلیا کو نکیل ڈالے گا۔ لیکن براڈ کی کارکردگی نے منظرنامہ ہی تبدیل کردیا۔ براڈ نے اپنے پہلے ہی اوور میں کرس راجرز اور اسٹیون اسمتھ کی وکٹیں حاصل کیں۔ راجرز کو سلپ میں کیچ آؤٹ کرواکے ان کی 300 ٹیسٹ وکٹیں بھی مکمل ہوئیں۔ اس طرح وہ 300 وکٹیں لینے والے پانچویں انگریز گیندباز بن گئے۔ ان سے قبل جیمز اینڈرسن، این بوتھم، باب ولس اور فریڈ ٹرومین '300 وکٹ کلب' میں شامل ہوچکے ہیں۔

stuart-broad2

انگلستان کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز

گیندباز ملک مقابلے وکٹیں بہترین گیندبازی اوسط اننگز میں 5 وگثيں میچ میں 10 وکٹیں
جیمز اینڈرسن انگلستان 107 413 7/43 29.38 18 مرتبہ 2 مرتبہ
این بوتھم انگلستان 102 383 8/34 28.40 27 مرتبہ 4 مرتبہ
باب ولس انگلستان 90 325 8/43 25.20 16 مرتبہ صفر
اسٹورٹ براڈ انگلستان 83 307 8/15 28.95 14 مرتبہ 2 مرتبہ
فریڈ ٹرومین انگلستان 67 307 8/31 21.57 17 مرتبہ 3 مرتبہ

بعد ازاں براڈ نے مچل مارش، ایڈم ووجس، مائیکل کلارک، مچل اسٹارک، مچل جانسن اور ناتھن لیون کو بھی ٹھکانے لگایا اور اپنی وکٹوں کی تعداد 8 کرلی۔ یہ کسی بھی ایشیز ٹیسٹ کی افتتاحی اننگز میں تاریخ کی بہترین باؤلنگ تھی جس نے 1997ء کے لارڈز ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے گلین میک گرا کی 38 رنز دے کر 8 وکٹوں کو گہنا دیا۔ ویسے ٹیسٹ کرکٹ میں انگلستان کے لیے سب سے شاندار باؤلنگ کارکردگی کا اعزاز جم لیکر کے پاس ہے جنہوں نے 1956ء میں اولڈ ٹریفرڈ میں آسٹریلیا کے خلاف صرف 53 رنز دے کر تمام 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

انگلستان کے لیے بہترین انفرادی باؤلنگ کارکردگی

گیندباز ملک اوورز میڈنز رنز وکٹیں بمقابلہ بمقام بتاریخ
جم لیکر انگلستان 51.2 23 53 10 آسٹریلیا مانچسٹر جولائی 1956ء
جارج لوہمین انگلستان 14.2 6 28 9 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ مارچ 1896ء
جم لیکر انگلستان 16.4 4 37 9 آسٹریلیا مانچسٹر جولائی 1956ء
ڈیوون میلکم انگلستان 16.3 2 57 9 جنوبی افریقہ اوول اگست 1994ء
سڈنی بارنیس انگلستان 38.4 7 103 9 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ دسمبر 1913ء
جارج لوہمین انگلستان 9.4 5 11 8 جنوبی افریقہ پورٹ ایلزبتھ فروری 1896ء
جونی برگس انگلستان 14.2 5 11 8 جنوبی افریقہ کیپ ٹاؤن مارچ 1889ء
اسٹورٹ براڈ انگلستان 9.3 5 15 8 آسٹریلیا ناٹنگھم اگست 2015ء

یاد رہے یہ وہی اسٹورٹ براڈ ہیں جن کے خلاف گزشتہ ایشیز سیریز میں آسٹریلیا کے شائقین نے زبردست مہم چلائی تھی اور وہ جہاں بھی کھیلنے کے لیے گئے، وہاں ان پر جملے کسے گئے۔ لیکن اب براڈ انگلستان کو ایک اور یادگار ایشیز کامیابی کے کنارے پر لے آئے ہیں۔ پہلے دن کھانے کے وقفے تک انگلستان آسٹریلیا کے 60 رنز کے جواب میں بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 13 رنز بنا چکا ہے۔ اگر بلے باز ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو انگلستان پانچویں ٹیسٹ سے قبل ہی آسٹریلیا کو سیریز ہرانے میں کامیاب ہوسکتا ہے اور اس کا تمام تر سہرا اسٹورٹ براڈ کو جائے گا۔

Facebook Comments