مائیکل کلارک نے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا

ایشیز 2015ء میں انگلستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد آسٹریلوی قائد مائیکل کلارک نے کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا ہے۔ وہ انگلستان میں جاری ایشیز کا پانچواں اور اپنے کیرئیر کا آخری ٹیسٹ اوول کے میدان میں کھیلیں گے۔

آسٹریلیا کے 43ویں ٹیسٹ کپتان مائیکل کلارک نے یہ اعلان ایشیز کے چوتھے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 78 رنز سے شکست کے بعد کیا جس کے ساتھ ہی انگلستان نے سیریز میں 3-1 کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی ہے۔ سیریز کا آخری ٹیسٹ 20 اگست کو اوول، لندن میں کھیلا جائے گا۔

سال 2012-13 کے دوران خود کو آسٹریلیا کا بہترین بلے باز ثابت کرنے والے مائیکل کلارک کے لیے 2014-15 زیادہ اچھا نہ رہا۔ گزشتہ 12 ماہ میں آسٹریلوی کپتان صرف 1 سنچری اور ایک ہی نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوسکے۔ حالیہ ایشیز میں بھی ان کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی اور وہ اب تک کھیلے گئے چار ٹیسٹ کی 8 اننگز میں 16.71 کی اوسط سے صرف 117 رنز بنا پائے۔

کلارک نے کرکٹ کو خیرباد کہنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حالیہ کارکردگی زیادہ تسلی بخش نہیں رہی جس کے بعد وہ خود کو ٹیم کی قیادت کا اہل نہیں سمجھتے۔ پہ در پہ شکست پر انہوں نے کہا کہ تمام کھلاڑیوں نے بہت محنت کی تاہم مجموعی طور پر ہماری کارکردگی ویسی نہ تھی جیسی انگلش ٹیم کے خلاف ہونی چاہیے تھی۔

ایشیز سے قبل 34 سالہ کلارک ناقدین کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے مشوروں کو رد کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے بارہا ایسے مشوروں کے جواب میں کہا کہ وہ سخت محنت کر رہے ہیں اور جلد اپنی پرانی فارم بحال کر کے گزشتہ ناکامیوں کا ازالہ کردیں گے۔ تاہم موجودہ کارکردگی کے بعد آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے کلارک کو باہر کیے جانے کا عندیہ دیا گیا جس پر انہوں نے بالآخر کرکٹ کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا۔

آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہوئے مائیکل کلارک اب تک 114 ٹیسٹ مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ سال 2004 میں بھارت کے خلاف کلارک نے اپنا پہلا ٹیسٹ کی اولین اننگز میں 151 رنز کی شاندار باری کھیلی۔ مجموعی طور پر کلارک اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں 1 ناقابل شکست ٹرپل سنچری، 3 ڈبل سنچریوں، 24 سنچریوں اور 27 نصف سنچریوں کے ساتھ 8628 رنز بنا چکے ہیں۔ یہ آسٹریلیا کی جانب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔

مائیکل کلارک نے جنوری 2011 میں آسٹریلیا کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی قیادت سنبھالی اور اب تک 46 ٹیسٹ میں یہ ذمہ داری انجام دے چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں آسٹریلیا نے 23 ٹیسٹ مقابلوں میں فتح حاصل کی، 16 میں شکست کھائی اور 7 ٹیسٹ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوئے۔

Facebook Comments