”22 سال ہوگئے“ بھارت اِس بار سری لنکا کو ہرا پائے گا؟

سری لنکا اور بھارت کے مابین 3 ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز کا آغاز بدھ 12 اگست سے ہو رہا ہے۔ یہ نہ صرف سری لنکا کے لیے اہمیت کی حامل سیریز ہے بلکہ بھارت کے لیے بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔

سری لنکا نے ابھی حال ہی میں پاکستان کے ہاتھوں مایوس کن شکست کھائی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ بات اہم ہے کہ یہ عظیم کھلاڑی کمار سنگاکارا کے کیریئر کا اختتامی لمحہ ہے۔ بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد سنگا دنیائے کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان پہلے ہی کر چکے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے لیے 'لنکا ڈھانا' اس لیے ضروری ہے کیونکہ وہ 22 سال سے یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا۔ بھارت نے 1993ء میں سری لنکا کے خلاف سیریز ایک-صفر سے جیتی تھی اور اس کے بعد سے اب تک 22 سال میں چار مرتبہ سری لنکا کا دورہ کرچکا ہے اور کبھی سیریز نہیں جیت پایا۔ 2001ء اور 2008ء میں تو اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 1997ء اور 2010ء میں سیریز برابری کی بنیاد پر ختم ہوئی۔

یہ 7 سال بعد پہلا موقع ہے کہ بھارت سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز کھیلے گا۔ بھارت کے 15 رکنی دستے میں سے 11 کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار لنکا میں ٹیسٹ کرکٹ سے لطف اندوز ہوں گے۔ ان میں کپتان ویراٹ کوہلی بھی شامل ہیں جبکہ یہاں طویل طرز کی کرکٹ کھیلنے والے باقی چار کھلاڑی مرلی وجے، ہربھجن سنگھ، ایشانت شرما اور امیت مشرا ہیں۔

جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، انگلستان اور آسٹریلیا کے خلاف لگاتار چار ٹیسٹ سیریز میں شکست کا منہ دیکھنے، یہاں تک کہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز بھی بارش کی وجہ سے نہ جیت پانے، کے بعد بھارت کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ شکست خوردہ سری لنکا کے خلاف اپنی ٹیسٹ فتوحات کا آغاز کرے۔

ادھر سری لنکا اپنے عظیم بلے باز کو کامیابی کے ساتھ رخصت کرنے کا خواہشمند ہے۔ 12 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے کمار سنگاکارا کے لیے صرف سری لنکا ہی نہیں بلکہ بھارت کے کپتان ویراٹ کوہلی بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ لیجنڈ کو شایان شان الوداع کہیں گے۔ "گو کہ ہماری کوشش ہوگی کہ سنگاکارا کو میدان میں زیادہ رنز بنانے سے روکا جائے، مگر ان کو کرکٹ سے پروقار طریقے سے رخصت کریں گے۔"

سیریز کا پہلا مقابلہ گال کے تاریخی میدان پر کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 20 اگست سے کولمبو میں ہوگا۔

Facebook Comments