[آج کا دن] کرکٹ کا ’یوسین بولٹ‘

کھیلوں کی دنیا میں یوسین بولٹ کو ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ جمیکا سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی کو برق رفتاری کی وجہ سے ایک عالم جانتا ہے۔ 100 اور 200 میٹر کی دوڑوں میں عالمی ریکارڈ بنانے والے یوسین 'تاریخ کے تیز ترین انسان' ہیں۔لیکن اگر ہم رخ کریں کرکٹ کا تو ہمیں یہاں کا تیز ترین کھلاڑی ڈھونڈنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ آج ہی کے دن یعنی 13 اگست کو راولپنڈی میں جنم لینے والے پاکستا ن کے شعیب اختر بلاشبہ کرکٹ کے 'برق رفتار کھلاڑی' ہیں۔ جس طرح بولٹ نے 100 میٹر کی دوڑ چند سیکنڈوں میں عبور کرکے تاریخی ریکارڈ بنایا اسی طرح شعیب اختر بھی 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکنے والے تاریخ کے پہلے گیندباز بنے۔

شعیب اختر نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 1997ء میں اپنے شہر راولپنڈی سے کیا لیکن پہلی بار عالمی منظرنامے پر اس وقت نمودار ہوئے جب جنوبی افریقہ کے دورے پر تباہ کن گیندبازی کی۔ پاکستان نے ان کی برق رفتاری کے بل بوتے پر ڈربن میں شاندار کامیابی حاصل کی جو جنوبی افریقہ کی سرزمین پر پاکستان کی پہلی ٹیسٹ فتح تھی۔ لیکن شعیب اختر کو جس لمحے نے شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا وہ 1999ء میں دورۂ بھارت میں پیش آیا۔

کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں تقریباً ایک لاکھ تماشائیوں کی موجودگی میں شعیب اختر کے ہوا کو چیرتے ہوئے یارکر نے سچن تنڈولکر کا صفر پر بولڈ کیا۔ اس سے قبل وہ پچھلی ہی گیند پر 'دیوارِ ہند' راہول ڈریوڈ کی وکٹیں بھی بکھیر چکی تھی لیکن تاریخ کے بڑے بلے بازوں میں سے ایک، سچن، کو دھول چٹانے سے ایک ایسی رقابت نے جنم لیا، جو اگلے کئی سالوں تک کرکٹ کے میدانوں میں تماشائیوں کو محظوظ کرتی رہی۔

ان شاندار صلاحیتوں کے باوجود شعیب اختر نظم و ضبط سے عاری ایک منہ زور گھوڑے کی طرح تھے۔ ان کی صحت کے مسائل، بار ہا زخمی ہونے اور کارکردگی میں عدم تسلسل نے ان کے کیریئر کو بری طرح متاثر کیا۔ اس کے باوجود متعدد مواقع پر انہوں نے باؤلنگ کے ایسے مظاہرے کیے جو گزشتہ 20 سالوں میں تیز گیندبازی کے بہترین نظارے تھے۔ جیسا کہ 2002ء میں آسٹریلیا کے کولمبو ٹیسٹ میں باؤلنگ، پھر نیوزی لینڈ کے خلاف 11 رنز دے کر 6 وکٹوں کی کارکردگی اور 2005ء میں انگلستان کے خلاف ہوم سیریز میں شاندار کھیل ان کے ٹیسٹ کیریئر کی اہم ترین جھلک تھیں۔ شعیب نے مجموعی طور پر 46 ٹیسٹ کھیلے اور 25.69 کے اوسط کے ساتھ 178 وکٹیں حاصل کیں۔

shoaib-akhtar

اپنی جارح مزاجی، غصیلے پن اور بددماغی کی وجہ سے شعیب اختر مختصر طرز کی کرکٹ کے لیے بہترین کھلاڑی ثابت ہوسکتے تھے۔ کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں شہرت پانے کے بعد عالمی کپ 1999ء میں شعیب کو باؤلنگ کرتے دیکھنے سے زیادہ خوبصورت نظارہ شاید ہی کوئی ملا ہو۔ سیمی فائنل میں ان کے ہاتھوں ڈیمین فلیمنگ کا کلین بولڈ ہونا عالمی کپ کے بہترین مناظر میں سے ایک تھا لیکن پاکستان اس کے باوجود فائنل نہ جیت پایا۔ وہ ایک الگ داستان ہے لیکن شعیب پھر ترقی کی منازل طے کرتے چلے گئے۔ 2002ء اور 2003ء میں تو وہ عروج پر پہنچ گئے۔ اس عرصے میں انہوں نے اپنے وقت کے بہترین گیندبازوں مرلی دھرن اور گلین میک گرا سے زیادہ بہتر اسٹرائیک ریٹ اور اوسط کے ساتھ گیندبازی کی۔

شعیب اختر تاریخ کے ان محض پانچ گیندبازوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے 25 سے کم کے اوسط سے 150 وکٹیں یا زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ شعیب کا کیریئر اسٹرائیک ریٹ بھی 32 سے کم تھا یعنی انہوں نے اپنی ہر 32 ویں گیند پر کسی کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ مجموعی طور پر شعیب نے 247 وکٹیں حاصل کیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ ان کی وکٹوں کی بڑی تعداد، کل 154، ایسی تھی جس میں پاکستان نے مقابلہ جیتا۔

عالمی کپ 2003ء میں شعیب اختر نے انگلستان کے خلاف مقابلے کے دوران 100 میل فی گھنٹے کی رفتار سے گیند پھینک کر ایک نیا عالمی ریکاڈ قائم کیا۔ معلوم تاریخ میں کبھی کوئی گیندباز 100 میل کے سنگ میل کو عبور نہیں کرسکا تھا۔ یوں شعیب اختر 'کرکٹ کے تیز ترین گیندباز' بن گئے اور آج بھی یہ ریکارڈ انہی کےپاس ہے۔

'ہے جستجو کہ تیز سے ہے تیز تر کہاں'، شعیب کے مزاج میں بھی خوب تندی و تیزی تھی بلکہ میدان سے باہر بھی وہ بارہا ایسے مسائل سے دوچار ہوئے جو کسی کھلاڑی کو زیب نہیں دیتے۔ کپتان،کوچ اور ساتھی کھلاڑیوں سے الجھنے کے واقعات انہیں بہت مہنگے پڑے اور اس پر باؤلنگ ایکشن پر اعتراض اور انجری کے مسائل نے ان کے کیریئر کو بری طرح متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ 13 سال تک دنیائے کرکٹ میں موجود رہنے کے باوجود اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں شعیب نے بہت کم کرکٹ کھیلی۔

عالمی کپ 2011ء میں انہیں آخری بار میدان عمل میں دیکھا گیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف پالی کیلے میں ہونے والی شکست ان کا آخری بین الاقوامی مقابلہ تھی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ باؤلنگ ایکشن کی تبدیلی اور 35 سال کی عمر ہوجانے کے باوجود اس عالمی کپ میں بھی شعیب نے مسلسل 95 میل فی گھنٹے کی زیادہ رفتار سے گیندیں پھینکیں، جو اس وقت کے اور آج کے بھی اچھے بھلے نوجوانوں کے بس کی بات نہیں دکھائی دیتی۔

ویسے شعیب اختر کا باؤلنگ رن اپ بہت طویل ہوتا تھا، یہ خیال کسی کو نہ سوجھا کہ اس زمانے میں یوسین بولٹ اور شعیب اختر کے درمیان کرکٹ میدان میں 100 میٹر کی دوڑ کروا لی جاتی۔ یقین جانیں مزا آ جاتا 🙂

Facebook Comments