نیوزی لینڈ کی جوابی کارروائی، سیریز برابر کرنے میں کامیاب

جنوبی افریقہ نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ہاشم آملہ کی پراعتماد اننگز کی بدولت 151 رنز محض 4 وکٹوں پر حاصل کرلیے تھے۔ گمان یہی تھا کہ سنچورین میں بھی یہی صورتحال ہوگی مگر نیوزی لینڈ کی بہترین بلے بازی اور عمدہ باؤلنگ نے تمام گمان غلط ثابت کردیے۔ 32 رنز کی شاندار کامیابی کے ساتھ ہی دو مقابلوں کی سیریز ایک-ایک سے برابر ٹھیری۔

پہلی کوشش میں ہدف کے دفاع میں ناکامی کے باوجود نیوزی لینڈ نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی ہی کا فیصلہ کیا جو جراتمندانہ تھا، اور شاید ایسی ہی دلیرانہ فیصلہ سازی نیوزی لینڈ کو دیگر ٹیموں سے ممتاز کرتی ہے۔ بہرحال، کپتان کے فیصلے پر لبیک کہتے ہوئے نیوزی لینڈ کے بلے باز میدان میں اترے اور گویا آئے ہی جیتنے کے لیے تھے۔ مارٹن گپٹل اور کپتان کین ولیم سن نے چھٹے اوور میں ہی اسکور کارڈ کو 50 کا ہندسہ پار کرا دیا۔ ولیم سن کی 25 رنز کی اننگز تمام ہوئی تو ٹام لیتھم 3 رنز کی مایوس کن اننگز کھیلنے آئے۔ 70 رنز تک پہنچتے پہنچتے نیوزی لینڈ کے تین بلے باز آؤٹ ہوچکے تھے۔ اس نقصان کے بعد اننگز کو سہارا دینے کی ذمہ داری گرانٹ ایلیٹ کے کاندھوں پر آئی۔ انہوں نے گپٹل کے ساتھ اس سفر کو آگے بڑھایا لیکن جیسے ہی منزل تیزی سے طے ہونے لگی جنوبی افریقہ کو گپٹل کی صورت میں بڑی کامیابی مل گئی۔ گپٹل کی 65 رنز کی اننگز جب مکمل ہوئی اور نیوزی لینڈ 104 رنز پر کھڑا تھا اور ابھی 9 رنز کا مزید اضافہ ہی ہوا تھا کہ ایلیٹ بھی پویلین سدھار گئے۔

اب نیوزی لینڈ کو قابل ذکر مجموعے تک پہنچانے کی ذمہ داری جمی نیشام اور وکٹ کیپر لیوک رونکی کے ہاتھ تھی۔ رونکی نے تو زیادہ دیر جنوبی افریقہ کے گیندبازوں کو زحمت نہ دی لیکن نیشام نے اپنی ذمہ داری کا پورا احساس کیا اور جارحانہ 28 رنز بنائے۔ جب وہ 19 ویں اوور میں آؤٹ ہوئے تو مجموعہ 166 رنز تھا اور مقررہ اوورز کی تکمیل پر 177 رنز کا ہندسہ اسکور بورڈ پر جگمگا رہا تھا جو بلاشبہ ایک اچھا اسکور تھا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے کاگیسو رباڈا نے چار اوورز میں 30 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں اور سب سے نمایاں گیندباز رہے۔

اس بڑے ہدف کے حصول کے لیے جنوبی افریقہ کو اچھے آغاز اور جارحانہ طرز عمل کی ضرورت تھی لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔ تیسرے اوور میں ہی میں مورنے وان ویک کی صورت میں پہلی وکٹ گنوائی اور ابراہم ڈی ولیئرز اور ہاشم آملہ کو بھی شراکت داری نہ جوڑنے دی۔ کپتان ڈی ولیئرز کو تنہا چھوڑ کر ہاشم آملہ محض 14 رنز بنا کر چلتے بنے۔ یعنی چوتھے اوور میں ہی جنوبی افریقہ محض 19 رنز پر دونوں افتتاحی بلے بازوں سے محروم ہوگیا۔

اس صورتحال میں کپتان نے دباؤ کو بھانپتے ہوئے جارح مزاجی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ گوکہ اس فیصلے نے اپنے ثمرات دینا شروع کردیے لیکن عین اسی وقت ڈی ولیئرز آؤٹ ہوگئے۔ ناتھن میک کولم کو چھکا رسید کرنے کے بعد اگلی ہی گیند پر انہوں نے جمی نیشام کو کیچ تھما دیا۔

اب بازی آہستہ آہستہ ہاتھ سے نکلنے لگی۔ آخر تک کھڑے رہنے اور رنز کی رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت تھی لیکن وکٹیں گرنے کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا تھا یہاں تک کہ 20 اوورز مکمل ہوگئے اور مجموعہ 8 وکٹوں پر 142 رنز تک ہی پہنچ پایا۔

نیوزی لینڈ کے تمام ہی گیندبازوں نے اچھی باؤلنگ کی۔ ناتھن میک کولم، مچل میک کلیناگھن اور ایش سودھی نے دو،دو جبکہ ایڈم ملنے اور جمی نیشام نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

مارٹن گپٹل کو میچ اور سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

ٹی ٹوئنٹی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اب نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ ایک روزہ سیریز کھیلیں گے جس کا پہلا مقابلہ 19 اگست کو سپر اسپورٹ پارک ہی میں کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments