نہ گراؤنڈ ملے، نہ کھلاڑی، پاکستان سپر لیگ پھر خطرے میں؟

پاکستان سپر لیگ دراصل کرکٹ کی دنیا کا 'بول ٹی وی' ہے، یعنی شروعات کر کے نہیں دے رہا۔ 2013ء میں زبردست سرگرمیوں، ہارون لورگاٹ جیسی اہم شخصیت کی شمولیت، کراچی میں ورلڈ الیون کے دو مقابلوں کے انعقاد اور لوگو کی رونمائی کے ساتھ اچھا خاصا ماحول بنا لیکن سب 'بن کھلے مرجھا گیا'۔ اب سپر لیگ میں ایک نئی روح پھونکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو نئے ارادوں کے ساتھ نئے مسائل بھی جنم لے چکے ہیں۔ پاکستان فروری 2016ء میں متحدہ عرب امارات کے انہی میدانوں پر لیگ منعقد کرنا چاہ رہا تھا کہ جنہیں پاکستان کرکٹ ٹیم نے گزشتہ پانچ سالوں سے اپنا "گھر" بنا رکھا ہے لیکن اس سے عین پہلے 'ماسٹرز کرکٹ لیگ' نے رنگ میں بھنگ ڈال دی۔

ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ اس نئی لیگ کا انعقاد انہی ایام میں امارات کے اہم میدانوں پر ہوگا کہ جہاں پاکستان سپر لیگ منعقد کرنے کا خواہاں ہے۔ امارات نے ماضی کے تعلقات کا خیال بھی نہ رکھا اور پاکستان کے رابطہ کرنے پر جواب دے دیا کہ وہ ان دنوں میں کوئی میدان نہیں دے سکتے۔ پاکستان نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے رابطہ کیا کہ کیا ماسٹر کرکٹ لیگ تسلیم شدہ اور اجازت یافتہ ہے؟ نفی میں جواب پا کر پاکستان نے اپنے ساتھ امارات کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان قطر کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے کہ جہاں بین الاقوامی معیار کا کوئی میدان نہیں۔ دارالحکومت دوحہ کاویسٹ اینڈ پارک اسٹیڈیم مناسب سہی لیکن کئی سہولیات سے لیس نہیں جس کی وجہ سے یہاں بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں ہوسکتا۔ لیکن قطر اپنے میدانوں کو بین الاقوامی کرکٹ کے لیے اہم مرکز بنانے کا بھی خواہشمند ہے اس لیے اس نے پاکستان کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ 10 سال تک پاکستان سپر لیگ کے یہاں انعقاد کی یقین دہانی کروائے تو قطر بین الاقوامی معیار کے مزید دو اسٹیڈیمز بنا کر دے گا۔ اگر یہ عرصہ پانچ سال ہوتا ہے تو اس اسٹیڈیم کے ساتھ ایک نیا میدان تمام تر سہولیات سے مزین کرکے دیا جائے گا۔ البتہ کم از کم ایک میدان، یعنی ویسٹ اینڈ پارک اسٹیڈیم، کو ہی بین الاقوامی کرکٹ کے لیے ضروری تمام سہولیات سے آراستہ کروانا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو کم از کم تین سال تک سپر لیگ کے قطر میں انعقاد کی حامی بھرناہوگی۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا "پاکستان" سپر لیگ کسی اور ملک میں منعقد ہونی چاہیے؟ ایک ایسا ملک جو بین الاقوامی کرکٹ کے لیے ترس رہا ہے۔ پانچ سالوں میں محض ایک ٹیم یہاں آ کر کھیلنے پر رضامند ہوئی ہے۔ پاکستان کو اگر ثابت کرنا ہے کہ ملک بین الاقوامی کرکٹ کے لیے محفوظ ہے تو اسے سپر لیگ کو اپنے ملک میں ہی کرنا ہوگا۔ لیکن فی الحال ایسا ممکن نہیں دکھائی دیتا کیونکہ بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار تک امارات اور قطر کی بحث میں شریک ہیں اور علی الاعلان اس پر گفتگو ہو رہی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ پاکستان میں انعقاد کا کوئی امکان نہیں ہے۔

بہرحال، اب تازہ ترین صورتحال میں جبکہ پاکستان نے سپر لیگ کے انعقاد کو مئی تک موخر کردیا ہے، امکان ہے کہ اونٹ کسی نہ کسی کروٹ تو بیٹھ ہی جائے گا۔ حالت یہ ہے کہ نہ ہی میدان ملے ہیں، نہ ہی کسی اسٹار کھلاڑی نے لیگ میں اپنی شرکت کی یقین دہانی کرواکے شائقین کرکٹ کے کچھ حوصلے بڑھائے ہیں، یعنی مکمل طور پر 'ٹھنڈ پروگرام' ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان سپر لیگ سری لنکا پریمیئر لیگ کے بعد بین الاقوامی لیگ کرکٹ کا ایک اور ناکام شو ثابت ہو؟ کوئی پاکستانی ایسا نہیں چاہے گا لیکن اگر بورڈ لیگ کرکٹ کے ذریعے قومی کرکٹ کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے تو اس کا وطن عزیز میں منعقد ہونا انتہائی ضروری ہے اور اس کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کے چند بڑے ناموں کی شمولیت بھی ضروری ہوگی۔

Facebook Comments