جنوبی افریقہ کی ہانڈی بیچ چوراہے پر پھوٹ گئی

دنیا بھر کی ٹیمیں میدان میں اترنے سے بھرپور ذہن سازی کرتی ہیں اور ہر ٹیم ذہن سازی کرکے اور مخالف کھلاڑیوں کو مضبوط اور کمزور پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی مقابلے کا رخ کرتی ہے تاکہ جیتنے میں زیادہ مشکل پیش نہ آئے۔ آج سے جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی اہم ایک روزہ سیریز شروع ہونے جارہی ہے اور اس سے ایک روز پہلے جنوبی افریقہ کی ہانڈی بیچ چوراہے پر پھوٹ گئی۔ اگر بات سمجھ نہیں آئی تو سمجھا دیتے ہیں۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ جنوبی افریقہ کی انتظامیہ نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو زیر کرنے کے لیے جو منصوبہ ترتیب دیا تھا، وہ غلط ہاتھوں میں چلا گیا اور یوں مقابلے سے قبل ہی دنیا بھر نے اسے دیکھ لیا۔ ہوا یوں کہ مقابلے کے آغاز سے کئی گھنٹے پہلے جنوبی افریقہ کی انتہائی خفیہ دستاویز ’راز کے پردے‘ سے باہر نکل گئی۔ کاغذ کا یہ اہم پرزہ ڈیل اسٹین کے کمرے تک پہنچانا تھا لیکن پیغام بر اسی ہوٹل میں مقیم کسی اور مہمان کے کمرے میں ڈال کر چل دیا۔

اگر بات یہیں پر رک جاتی تو کسی حد تک معاملہ سنبھالا جا سکتا تھا لیکن یہ آگے، بلکہ بہت آگے، نکل چکی ہے کیونکہ اس ’مہربان مہمان‘ نے وہ پرچہ ’افادۂ عام‘ کے لیے فیس بک پر آویزاں کردیا ہے۔ آپ بھی ملاحظہ کیجیے:

www

سخت محنت اور عرق ریزی سے تیار کی گئی منصوبہ بندی نہ صرف دشمن کے ہاتھ لگے، بلکہ سرعام لگے تو جنوبی افریقہ کی پریشانی کا عالم کیا ہوگا اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پرچے پر نیوزی لینڈ کے ہر بلے باز کا جائزہ موجودہ ہے۔ اوپننگ بلے باز مارٹن گپٹل کے بارے میں لکھا ہوا ہے کہ ان کی وکٹ حاصل کرنے کے لیے باؤںسر سے مدد لی جا سکتی ہے جبکہ کپتان کین ولیم سن کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ’’پل شاٹ‘‘ میں کسی حد تک کمزور ہیں۔

اِسی طرح گرانٹ ایلیٹ کا ذکر بھی ہے، وہی ایلیٹ کہ جنہوں نے عالمی کپ 2015ء کی دوڑ سے جنوبی افریقہ کو باہر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے رنز کی رفتار روک پر انہیں پریشان کیا جا سکتا ہے۔ وکٹ کیپر لیوک رونکی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ’’پل‘‘ اور ’’ہک‘‘ شاٹ کھیلنے کے عادی ہیں اِس لیے انہیں اس طرح آؤٹ کیا جا سکتا ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی ٹیم کی منصوبہ بندی غلط ہاتھوں میں چلی گئی ہو۔ نومبر 2012ء میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے مابین ایک ٹیسٹ کے دوران بھی پروٹیز بلے بازوں کی کمزوریوں کے متعلق دستاویز منظرعام پر آ گئی تھی۔ اس کا الزام خود آسٹریلوی کوچ جان بکانن پر عائد ہوا تھا، گو کہ چند حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ غلطی سے ہوا تھا۔ بہرحال، اس مرتبہ جو منصوبہ سر بازار ظاہر ہوا ہے، ا سے قطع نظر کہ ایسا کس نے اور کیوں کیا؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے نیوزی لینڈ کے بلے باز اپنی تیاریوں کو مزید بہتر بنا پائیں گے؟ یا جنوبی افریقہ کے باؤلرز اس خفت کے باوجود بازی لے جائیں گے۔ فیصلہ آئندہ چند گھنٹوں میں ہوجائے گا۔

Facebook Comments