سلمان بٹ کو فوری طور پر میدان میں اتارنے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں پابندی بھگتنے والے کھلاڑیوں بالخصوص سلمان بٹ کی سزا میں نرمی کی کوششیں آج رنگ لے آئیں اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے محمد عامر کے ساتھ محمد آصف اور سلمان بٹ کی سزا بھی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کو پانچ سال کی لازمی سزا کے ساتھ ساتھ تین اور پانچ سال تک مزید معطل رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔

آئی سی سی کے حالیہ فیصلے کے بعد اب پی سی بی سلمان بٹ کو فوری طور پر کھیل کے میدان میں واپس لانے کا خواہاں ہے۔ ذرائع کے مطابق یکم ستمبر 2015ء سے شروع ہونے والے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے کوالیفائنگ مرحلے میں سلمان بٹ لاہور کی نمائندگی کرتے نظر آئیں گے۔ سلمان بٹ پابندی سے قبل لاہور اور نیشنل بینک کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ جبکہ بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے 33 ٹیسٹ، 78 ایک روزہ اور 24 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں حصہ لیا اور 11 سنچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر 5209 رنز بنائے۔ اوپننگ بلے باز نے پانچ ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان کی قیادت بھی کی، جن میں تین بار شکست منہ دیکھا اور دو بار فتح سمیٹی۔

یاد رہے کہ سلمان بٹ پر اگست 2010ء میں پاکستان اور انگلستان کے درمیان کھیلے گئے لارڈز ٹیسٹ کے دوران اسپاٹ فکسنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا، جسے وہ عرصہ دراز تک بارہا رد کرتے رہے۔ حتیٰ کہ فروری 2011ء میں آئی سی سی کی جانب سے لگائی گئی پانچ سال کی مکمل اور پانچ سال کی مشروط پابندی کی سزا کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے عالمی ثالثی عدالت برائے کھیل سے رجوع کرلیا تھا۔ تاہم عدالت نے سلمان بٹ کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بننے اور مسلسل سبکیوں باوجود سابق کپتان طویل عرصے تک اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے سے انکاری رہے تاہم گزشتہ سال انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کر ہی لیا۔ اس کے باوجود انہوں نے آئی سی سی اور پی سی بی کی جانب سے اینٹی کرپشن کورس میں حصہ نہ لیا لیکن جب آئی سی سی کی طرف سے محمد عامر کے ساتھ سزا میں نرمی کی گئی تو سلمان بٹ نے بھی کوششیں شروع کردیں اور آج کرکٹ بورڈ کی سفارش پر اُن کے پابندی ختم ہوگئی۔

Facebook Comments