پی سی بی-کے سی سی اے تنازع میں نیا رُخ

پاکستان کرکٹ بورڈ اور کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے مابین تنازع ایک نئی صورت اختیار کرگیا ہے۔ ایک طرف کراچی نے 'عدم تعاون' کی تحریک چلا رکھی ہے تو دوسری جانب بورڈ نے بھی کچھ ایسے اقدامات اٹھائے ہیں، جن سے بیک وقت کراچی کے مطالبات کی تشفی بھی ہوسکے اور ساتھ ہی وہ اپنے مطالبات سے دستبردار ہونے پر بھی غور کرے۔

پی سی بی کے ساتھ کشمکش پیدا ہونے کے بعد کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اعجاز فاروقی کی قیادت پر اظہار اعتماد اور ڈومیسٹک سیزن میں کراچی کی دو ٹیموں کی شمولیت کے موقف پر بدستور ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

لیکن آئندہ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے لیے کراچی کا اپنی ٹیموں کے اعلان اور ان کے لیے آفیشلز مقرر کرنے سے انکار نے بورڈ کو ایک اضافی جھنجھٹ میں ڈال دیا ۔ اور جس طرح پی سی بی نے کراچی کی ٹیمیں بنائی ہیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پچھلے قدموں پر آ گیا ہے۔ براہ راست مرکزی مرحلہ یعنی مین راؤنڈ کھیلنے والے کراچی ڈولفنز کی قیادت فیصل اقبال کو سونپ دی گئی ہے۔ وہی فیصل اقبال جو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر اسی بورڈ کی جانب سے پابندی کا شکار بھی بنائے گئے لیکن اب کراچی کی مرکزی ٹیم میں کپتان کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔ اس سے بھی مزیدار بات یہ ہے کہ کراچی کی دوسرے درجے کی ٹیم زیبراز کی قیادت شاہد آفریدی کو سونپ دی گئی ہے اور سرفراز احمد اور انور علی جیسے اسٹار کھلاڑی بھی اسی میں شامل کیے گئے ہیں۔ کیا پی سی بی یہ چاہتا ہے کہ مضبوط کراچی زیبراز مرکزی مرحلے تک پہنچے اور یوں کے سی سی اے کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے۔

فی الحال تو کے سی سی اے اس مقا م تک پہنچ گیا ہے کہ اس نے نہ صرف ٹیموں کا اعلان کرنے سے انکار کردیا ہے بلکہ کسی بھی ٹیم کے لیے کوچ اور دیگر عملہ دینے سے بھی مکر گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جس طرح بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ٹیمیں بنائی ہیں، اسی طرح آئندہ فرسٹ کلاس سیزن کے لیے بھی بنا لے۔ ہمیں براہ راست دو ٹیمیں کھلانے کی اجازت اگر نہیں دی گئی تو قائد اعظم ٹرافی کے لیے بھی ٹیمیں نہیں بنائیں گے۔ البتہ کے سی سی اے کا اتنا ضرور کہنا ہے کہ وہ کسی کھلاڑی کو اپنے احتجاج میں نہیں گھسیٹے گا اور نہ ہی انہیں پابند کرے گا کیونکہ اس کے لیے نتیجے میں کھلاڑیوں کے مستقبل پر برا اثر پڑے گا۔

کے سی سی اے کے 'محدود احتجاج' سے صاف اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ انتہائی قدم اٹھانے سے گریزاں ہے۔ اس کی وجہ واضح طور پر لٹکتی ہوئی ایڈہاک ازم کی تلوار ہے، جس کے بارے میں ذرائع کہتے ہیں کہ اگر معاملہ مزید لٹکا تو پی سی بی یہ اختیار بھی استعمال کرسکتا ہے جو یقیناً کے سی سی اے کے لیے ایک اچھی خبر نہیں ہوگی۔

Facebook Comments