اسپاٹ فکسنگ کے مرتکب کھلاڑیوں کی آزادی، جاوید میانداد برہم

تقریباً دو ماہ تک پاکستان کرکٹ میں کھیل کی کوئی سرگرمی نہیں، اور فراغت کے ان دنوں میں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تینوں افراد کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے آزادی کے پروانے نے قومی منظرنامے پر خاصی ہلچل مچا دی ہے۔ آئی سی سی نے اعلان کیا تھا کہ سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر خود پر عائد پانچ سال پابندی کی مدت ختم ہونے کے بعد یکم ستمبر سے ہر سطح پر کھیلنے کے لیے آزاد ہوں گے۔ اب پاکستان کرکٹ میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ آیا ان تین کھلاڑیوں کو ایک مرتبہ پھر کھیلنے دیا جائے یا نہیں۔ محمد عامر کے ساتھ تو ابتداء ہی سے ایک بڑے حلقے کی ہمدردیاں رہی ہیں لیکن سلمان بٹ اور محمد آصف کے بارے میں مجموعی طور پر رویہ بہت سخت تھا۔

اس معاملے پر پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم بلے باز جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ان کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی عائد کردینی چاہیےاور کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے گریز کرنا چاہیے۔

2010ء میں جان بوجھ کر نو-بالز پھینکنے اور اس کے بدلے میں سٹے بازوں سے رقوم حاصل کرنے والے پاکستان کے ان تینوں کھلاڑیوں پر آئی سی سی نے کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندی عائد کی تھی، جو یکم ستمبر 2015ء کو مکمل ہو رہی ہے۔ محمد عامر کو تحقیقات میں تعاون اور اچھے رویے کی وجہ سے چھ ماہ قبل ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ پابندی کا دورانیہ مکمل ہوتے ہی بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آ سکیں البتہ سلمان اور آصف کو ایسی کوئی رعایت نہیں ملی۔ لیکن بورڈ اور آئی سی سی کی کوششوں کے باوجود جاوید میانداد مطمئن نہیں دکھائی دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمارے لیے ماں کی طرح مقدس ہے، اور ان کھلاڑیوں نے اس کا تقدس پامال کیا ہے، اس لیے کسی صورت ان کھلاڑیوں کو دوبارہ نہیں کھلانا چاہیے۔ ان کی واپسی سے محض ملک کو بدنامی ہی ملے گی۔ ہوسکتا ہے چند ممالک ان کو ویزے دینے سے ہی انکار کردیں کیونکہ یہ سزا یافتہ کھلاڑی ہیں اور فوجداری مقدمے میں قید بھی کاٹ چکے ہیں۔

جاوید میانداد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے فکسنگ ایک ناسور کی طرح ہے اور ان کھلاڑیوں کو کرکٹ سے دور رکھ کر ہی اس کا جڑ سے خاتمہ ہوگا۔ اگر ان کھلاڑیوں کو اجازت دینی ہی ہے تو سلیم ملک کو بھی کوئی عہدہ دیا جائے۔ سابق کپتان سلیم ملک پر فکسنگ ہی کے معاملے پر ماضی میں تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی جس کو اب کہیں جاکر نرم کیا گیا ہے، جب ان کی عمر 52 سال ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے میانداد کہتے ہیں کہ ملک کی ناموس بیچ کر اپنی جیبیں گرم کرنے والوں کو معافی دینا قبول نہیں۔ اس سے نئے کھلاڑیوں پر بھی بہت برا تاثر قائم ہوگا۔

واضح رہے کہ اس وقت محمد عامر سمیت تینوں کھلاڑیوں کو اگلے ماہ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں کھلانے کی باتیں کی جارہی ہیں، بلکہ عامر تو گزشتہ سپر 8 کپ میں راولپنڈی کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔

Facebook Comments