ایشیز 2015ء کو یادگار بنانے والی وجوہات

اگر آپ بھی کرکٹ کے 'جیالے' فین ہیں تو پھر ایشیز کی اہمیت اور ٹیسٹ کرکٹ میں اس کے منفرد مقام سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق تاریخی لحاظ سے تو اس سیریز کے ہم پلہ کوئی نہیں البتہ جتنی بڑی تعداد میں یہ شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتی ہے، اس میں پاک-بھارت کرکٹ کے علاوہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ گزشتہ 8 سال سے پاک-بھارت باہمی سیریز نہ ہونے کی وجہ سے ایشیز بلاشرکت غیرے دنیا کے سب سے اہم ٹیسٹ مقام ہیں اور اس بار پانچ مقابلوں کی سیریز تین-دو سے انگلستان کے نام رہی ہے۔ اس ناقابل یقین جیت کے ساتھ ساتھ چند ایسی منفرد باتیں بھی ہوئی ہیں جنہوں نے اس سیریز کی دلچسپی کو مزید بڑھایا ہے۔

مجموعی طور پر پانچ ٹیسٹ مقابلوں میں 25 دن کا کھیل ہونا تھا مگر سیریز کا نتیجہ محض 18 دن میں ہی آ گیا۔ اس سے قبل 2000ء میں انگلستنا اور ویسٹ انڈیز کے مابین کھیلی گئی پانچ مقابلوں کی ٹیسٹ سیریز میں بھی ایسا ہی ہوا تھا اور تب بھی فاتح انگلستان ہی تھا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پانچویں بار ایسا ہوا ہے کہ کوئی ٹیم ایک مقابلے میں اننگز سے ہار جائے اور اگلے ہی میں اننگز کے فرق سے کامیابی حاصل کرلے۔ ایشیز کی تاریخ میں یہ محض دوسرا موقع ہے۔ آسٹریلیا نے ٹرینٹ برج میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 78 رنز سے شکست کا منہ دیکھا تھا اور اوول کے مقام پر پانچویں مقابلے میں انگلستان کو ایک اننگز اور 4 6رنز سے ہرایا۔

حالیہ ایشیز سیریز میں ایک کھلاڑی بھی اسٹمپڈ نہیں ہوا اور یہ لگاتار تیسری بار ہوا ہے۔ آخری بار 2000ء میں برسبین کے میدان پر انگلستان کے اینڈریو اسٹراس وکٹ کیپر کی پھرتی کا نشانہ بنے تھے۔

1926ء کے بعد، یعنی 89 سال کے طویل عرصے کے بعد، پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی آسٹریلوی گیندباز نے انگلستان میں ہونے والی ایشیز سیریز میں 20 کھلاڑیوں کو آؤٹ نہ کیا ہو۔ اسی سے اندازہ لگالیں کہ آسٹریلیا کو شکست کیوں ہوئی۔

Facebook Comments