پاکستان سپر لیگ کی میزبانی کے لیے قطر پُرعزم

جب متحدہ عرب امارات نے ماسٹرز چیمپئن لیگ کی وجہ سے پاکستان کے لیے ’’پاکستان سپر لیگ‘‘ کے دروازے بند کیے تو ہر طرف مایوسی نے ڈیرے ڈال لیے تھے کہ اب شاید سپر لیگ کی کنارے لگتی کشتی ایک مرتبہ پھر بھنور میں پھنس جائے گی۔ ہر کسی کے چہرے پر یہی سوال تھے کہ کیا پاکستان سپر لیگ کا انعقاد کرسکے گا؟ یا یہ منصوبہ ’’بن کھلے ہی مرجھا جائے گا‘‘؟

ابھی یہ باتیں جاری ہی تھی کہ پاکستان کا قطر سے رابطہ ہوا جس کا پاکستان کو مثبت جواب ملا۔ اِس حوالے سے تازہ ترین پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ قطر کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ گل خان نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 70 فیصد امکانات پیدا ہوچکے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ فروری 2016ء میں دوحہ میں ہی کھیلی جائے گی۔

اِس حوالے سے قطر کرکٹ ایسوسی ایشن اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان تین روزہ مذاکرات بھی ہوئے ہیں اور اب روشن امکان ہے کہ شیڈول کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان بھی اپنا ایک وفد اگلے ماہ قطر بھیجے گا۔گل خان کا کہنا ہے کہ اُن کی بھی یہ خواہش ہے کہ پاکستان سپر لیگ دوحہ میں منعقد ہو کیونکہ اِس سے نہ صرف قطر کو فائدہ ہوگا بلکہ کرکٹ بھی پھلے پھولے گی، جو سب کے لیے اچھی خبر ہوگی۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ابھی ٹورنامنٹ کے حوالے سے بہت ساری باتیں طے ہونا باقی ہیں۔ اگرچہ اِس میں اکثریت پاکستانی کھلاڑیوں کی ہی ہوگی لیکن کوشش کی جائے گی کہ غیر ملکی ٹیموں کے بڑے نام کو بھی ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے راضی کیا جائے۔گل خان نے مزید کہا کہ اگر پاکستان سے ہمارے معاملات طے پاجاتے ہیں اور یہاں پاکستان سپر لیگ کامیابی سے ہمکنار ہوجاتی ہے تو پھر ہم کوشش کریں گے متحدہ عرب امارات کے بجائے ہم پاکستان کے بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی بھی کریں۔

خبروں کے مطابق پاکستان کا ارادہ ہے کہ ستمبر میں وہ باقاعدہ طور پر کھلاڑیوں کی نیلامی کا آغاز کرے، جبکہ براڈکاسٹنگ کے حوالے بھی معاملات اِسی ماہ میں طے کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ دوحہ کے مخصوص کرکٹ میدان میں 14 ہزار شائقین کی گنجائش موجود ہے۔ جبکہ رات میں بھی کھیلنے کی سہولت دستیاب ہے یعنی ڈے/نائٹ کھیل کا مکمل انتظار ہے۔

قطر مشرق وسطیٰ میں کھیلوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ماضی قریب میں ایشیائی کھیلوں کی شاندار میزبانی کے علاوہ 2022ء میں قطر دنیائے کھیل کے سب سے بڑے ایونٹ فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی بھی کرے گا۔ گو کہ دیگر کھیلوں کے لیے بنیادی ڈھانچے عالمی معیار کا ہے البتہ کرکٹ کے لیے ابھی کافی کام کرنا باقی ہے۔ ملک میں 90 ہزار پاکستانیوں کے علاوہ پانچ لاکھ بھارتی، ڈیڑھ لاکھ بنگلہ دیشی اور ایک لاکھ سری لنکن باشندے موجود ہیں جو ملک کو کرکٹ کے لیے ایک اہم مرکز بنا سکتے ہیں۔

Facebook Comments