کامیاب لیکن پریشان انگلستان، کیونکہ اب سامنے ہے پاکستان

انگلستان کو توقعات کے عین برخلاف آسٹریلیا کے مقابلے میں جو کامیابی ملی ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ مفلس کا پرائز بانڈ نکل آیا ہے۔ اسی سے اندازہ لگالیں کہ جب چوتھے ٹیسٹ میں فتح کے بعد سیریز انگلستان کے حق میں محفوظ ہوگئی تو خوشی خوشی میں ہی پانچواں ٹیسٹ بری طرح ہار گئے۔ خیر، ایشیز تو اب ماضی کا قصہ بن گئی لیکن اب انگلستان کو سب سے بڑا امتحان درپیش ہے، یعنی پاکستان کا دورہ۔ "سب سے بڑا" اس لیے کہ ماضی یہی بتاتا ہے۔

انگلستان نے 1961ء سے لے کر 2012ء تک جب جب پاکستان سے مقابلے کے لیے ملک سے باہر قدم رکھا، اسے فتوحات خال خال ہی نصیب ہوئیں۔ پاکستان یا متحدہ عرب امارات میں انگلستان نے 27 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں اور صرف دو فتوحات حاصل کی ہیں۔ ایک 1961ء میں اور دوسری 2000ء میں اور دونوں مرتبہ یہ کامیابی اسے سیریز جتوانے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ اس کے سوا ہمیشہ یا تو مقابلہ برابری کی سطح پر تمام ہوا یا پھر بازی پاکستان کے نام رہی۔ 1984ء اور 1987ء کے بعد پاکستان نے 2005ء اور 2012ء میں بھی انگلستان کے خلاف سیریز جیتی ہیں۔ ان میں سے آخر الذکر دونوں سیریز تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔

2005ء میں انگلستان کا سورج نصف النہار پر تھا۔ اس نے اپنے دورِ عروج میں آسٹریلیا کو ایشیز میں شکست دی تھی۔ رکی پونٹنگ کی زیر قیادت جب 2005ء کے موسمِ گرما میں آسٹریلیا کا دستہ انگلستان پہنچا تو پہلے ہی مقابلے میں 239 رنز سے کامیابی حاصل کرکے اپنے ارادے ظاہر کردیے تھے لیکن اس کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے تین سنسنی خیز ترین میچز کھیلے گئے۔ پہلے انگلستان نے برمنگھم میں صرف دو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی، پھر آسٹریلیا صرف ایک وکٹ بچانے کی وجہ سے شکست سے بال بال بچ گیا اور پھر ناٹنگھم میں چوتھا ٹیسٹ انگلستان نے صرف 3 وکٹوں سے جیت لیا۔ اوول کا آخری ٹیسٹ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوا اور یوں انگلستان نے 16 سال کے طویل عرصے کے بعد ایشیز جیت لی۔

اُس زمانے میں جب رکی پونٹنگ الیون کے خلاف اچھی بھلی ٹیموں کا پتہ پانی ہوجاتا تھا، انگلستان نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا لیکن ابھی شایانِ شان جشن بھی نہ منانے پائے تھے کہ پاکستان کے ہاتھوں دھر لیے گئے۔

Shoaib-Akhtar

نومبر 2005ء کے وسط میں جیسے ہی انگلستان کے کھلاڑیوں نے سرزمینِ پاک پر قدم رکھے، ان کی سب تدبیریں الٹی ہوگئیں۔ پہلے ملتان میں 22 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا، پھر فیصل آباد ٹیسٹ کو بمشکل ڈرا کر پائے لیکن لاہور میں ہونے والے آخری ٹیسٹ میں اننگز اور 100 رنز کی بدترین شکست کھا ئی۔ یوں ایشیز کی فتح کا سارا نشہ پاکستان نے ہرن کردیا۔

پھر 2011ء کے وسط میں انگلستان نے اپنے وقت کے عالمی نمبر ایک بھارت کو تمام چار ٹیسٹ مقابلوں میں شکست دے کر درجہ بندی میں سرفہرست مقام حاصل کرلیا۔ پھر، ایک مرتبہ پھر، انگلستان آسمان سے گرا اور پاکستان یعنی کھجور میں اٹک گیا۔ 2012ء کے بالکل اوائل میں متحدہ عرب امارات کے میدانوں پر تین ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز شروع ہوئی اور وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ پہلے ٹیسٹ میں انگلستان کو 10 وکٹوں کی بھاری شکست ہوئی، دوسرے میں پاکستان نے صرف 72 رنز پر انگلستان کو ڈھیر کرکے سیریز جیت لی اور تیسرے میں تو انگلستان تب بھی نہ جیت پایا، جب اس نے پہلی اننگز میں پاکستان کو 99 رنز پر آل آؤٹ کردیا تھا۔ 71 رنز کی شکست یہاں بھی نصیب میں لکھی گئی اور یوں تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے ہاتھوں کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار ہوا۔

کیا اب بھی ایک تاریخی کامیابی کے بعد پاکستان کے ہاتھوں بڑی شکست انگلستان کا انتظار کررہی ہے؟ بس یہی خوف انگلستان کی انتظامیہ کو دامن گیر ہے۔ گو کہ دورے کے آغاز میں ابھی تقریباً ڈیڑھ ماہ باقی ہیں لیکن انگلستان کی تیاریوں کا آغاز ابھی سے ہوچکا ہے۔ جو روٹ جیسے سرفہرست بلے باز اور اپنے دو بہترین گیندبازوں جمی اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کو آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ایک روزہ سیریز میں آرام کا موقع دے کر ٹیم انتظامیہ نے ظاہر کردیا ہے کہ اس مرتبہ وہ پاکستان کو آسان حریف نہیں سمجھیں گے، اور حقیقت یہ ہے کہ سمجھ بھی نہیں سکتے۔ پاکستان گزشتہ 8 سالوں میں کوئی ایسی سیریز نہیں ہارا، جس میں وہ میزبان ہو۔ بلکہ انگلستان کے علاوہ آسٹریلیا کو بھی متحدہ عرب امارات میں سیریز میں کلین سویپ کرچکا ہے۔ اس لیے دل تھام کر بیٹھیں کہ اکتوبر سے ہمیں یقیناً ایک اور شاہکار سیریز دیکھنے کو ملے گی۔

پاکستان کی گزشتہ 10 سال کی ٹیسٹ کارکردگی

بحیثیت میزبان

بمقابلہ مقابلے فتوحات شکستیں ڈرا سیریز فاتح
نومبر 2005ء انگلستان 3 2 0 1 پاکستان
جنوری 2006ء بھارت 3 1 0 2 پاکستان
نومبر 2006ء ویسٹ انڈیز 3 2 0 1 پاکستان
اکتوبر 2007ء جنوبی افریقہ 2 0 1 1 جنوبی افریقہ
فروری 2009ء سری لنکا 2 0 0 2 برابر
جولائی 2010ء آسٹریلیا 2 1 1 0 برابر
نومبر 2010ء جنوبی افریقہ 2 0 0 2 برابر
اکتوبر 2011ء سری لنکا 3 1 0 2 پاکستان
جنوری 2012ء انگلستان 3 3 0 0 پاکستان
اکتوبر 2013ء جنوبی افریقہ 2 1 1 0 برابر
دسمبر 2013ء سری لنکا 3 1 1 1 برابر
اکتوبر 2014ء آسٹریلیا 2 2 0 0 پاکستان
نومبر 2014ء نیوزی لینڈ 3 1 1 1 برابر

Facebook Comments