محمد یوسف کی پانچ بہترین اننگز

آج پاکستان کی کرکٹ تاریخ کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک محمد یوسف کا یومِ پیدائش ہے۔ 1974ء میں آج ہی کے دن یعنی 27 اگست کو لاہور میں جنم لینے والے یوسف پاکستان کے کامیاب ترین مڈل آرڈر بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ ہو یا ون ڈے، انہوں نے کئی مواقع پر تن تنہا ٹیم کو مشکل حالات سے نکال کر فتح کی راہ پر گامزن کیا۔ گرچہ یوسف نے اپنے کیریئر میں کئی یادگار اننگز کھیلیں، لیکن اگر صرف سرفہرست 5 کا انتخاب کیا جائے تو وہ مندرجہ ذیل اننگز ہوں گی:

115 رنز، بمقابلہ ویسٹ انڈیز ، برج ٹاؤن، 2000ء

2000ء میں جب پاکستان غرب الہند کے جزائر پر پہنچا، تو یہ وہ عہد تھا جب ویسٹ انڈیزخطرناک باؤلنگ اٹیک کا حامل تھا۔ کورٹنی واش اور کرٹلی ایمبروز جیسے مایہ ناز تیز باؤلر اس کا حصہ تھے۔ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں جب پاکستان نے پہلے بلے بازی شروع کی تو صرف 37 رنز پر آدھی ٹیم پویلین میں لوٹ چکی تھی۔ اس موقع پر محمد یوسف، جو اس وقت یوسف یوحنا تھے، ویسٹ انڈیز کی باؤلنگ کے سامنے دیوار بن گئے اور 14 چوکوں سے مزید ایک کلاسیک سنچری بنائی۔ یہ ان کے کیریئر کی تیسری سنچری تھی، جس کے بعد وہ 115 رنز پر واش کی پانچویں وکٹ بنے۔ یوسف کی اننگز کی بدولت پاکستان 253 رنز کا مجموعہ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوا اور بعد ازاں مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوا۔ ویسے یوسف نے خود بھی اُس وقت اِس اننگز کو اپنی بہترین اننگز کہا تھا اور اپنی پہلی سنچری اور آسٹریلیا کے خلاف برسبین میں 95 رنز کی باری سے زیادہ یادگار قرار دیا تھا۔

100*بمقابلہ بھارت، ایشیا کپ 2000ء، ڈھاکا

میدان ہو ڈھاکا کا، حریف ہوں پاکستان اور بھارت، تو مقابلہ تو بہترین ہوگا ہی لیکن یوسف کے لیے یہ اپنی سب سے یادگار ایک روزہ اننگز کھیلنے کا موقع تھا۔ 2000ء میں ہونے والے ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف جب پاکستان 103 رنز پر چار کھلاڑیوں سے محروم ہوچکا تھا ۔ سعید انور، انضمام الحق اور شاہد آفریدی کے بعد یوسف سے توقعات تھیں لیکن ان کا انداز حد درجہ محتاط تھا یہاں تک کہ صرف 50 رنز بنانے کے لیے انہوں نے 90 گیندیں استعمال کرلیں۔ لیکن اس کے بعد اننگز کو یکدم ٹاپ گیئر میں ڈال دیا۔ ان کے بلے سے اس تیزی سے رنز اگلنا شروع کیے کہ حریف گیندبازوں کے لیے سنبھلنا مشکل ہوگیا۔ اگلے 50 رنز صرف 23 گیندوں پر بنے اور پاکستان 295 رنز کے مجموعے تک پہنچ گیا۔ کمال یہ رہا کہ یوسف نے اننگز کی آخری گیند پر چھکے کے ذریعے اپنی سنچری مکمل کی۔ پاکستان نے بعد ازاں 44 رنز سے مقابلہ جیتا اور بھارت کو اعزاز کی دوڑ سے باہر کردیا۔

81* بمقابلہ بھارت، چیمپئنز ٹرافی 2004ء

چار سال بعد یوسف نے ایک مرتبہ پھر روایتی حریف بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا اور 81 رنز کی یادگار اننگز کے ذریعے بھارت کے جبڑے سے فتح چھین لی۔ چیمپئنز ٹرافی کا یہ مقابلہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ فاتح ٹیم نے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلینا تھا۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ پاکستانی گیندباز وقفے وقفے سے وکٹیں لیتے رہے لیکن بھارت راہول ڈریوڈ کے 67 رنز کی بدولت 200 کا مجموعہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا جو کہ پچ کو دیکھتے ہوئے قابلِ دفاع ضرور تھا۔

201 رنز کے تعاقب میں پاکستان کی بلے بازی ابتداء ہی میں لڑکھڑا گئی۔ جب یوسف یوحنا کی آمد ہوئی تو گیارہویں اوور میں صرف 27رنز پر پاکستان کے تین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ اس صورتحال میں یوسف نے انضمام الحق کے ساتھ مل کر پہلے تو وکٹیں گرنے کا سلسلہ روکا اور 100 کا ہندسہ بغیر کسی اضافی نقصان کے عبور کرلیا۔ لیکن جب حالات بہتر ہوتے نظر آنے لگے انضمام الحق 41 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔ اب یوسف نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور اسکور بورڈ کو تحریک دیتے رہے۔ جب 60 گیندوں پر 52 رنز درکار تھے تو شاہد آفریدی کریز پر آئے اور صرف 12 گیندوں پر 25 رنز کی مختصر اننگز کھیل کر ساری ذمہ داری محمد یوسف کے کاندھے پر ڈال کر چلتے بنے۔ یوسف نے اس صورتحال میں بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور آخری اوور کی دوسری گیند پر رن دوڑ کر پاکستان کو محض تین وکٹوں سے کامیابی دلا دی۔

111 بمقابلہ آسٹریلیا، 2004ء، ملبورن

کپتان انضمام الحق کے زخمی ہونے کی وجہ سے یوسف یوحنا کو آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں قیادت کے فرائض انجام دینے پڑے۔ یوں وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے مسیحی کپتان بنے۔ روایتی باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے پہلے روز یوسف نے آسٹریلیا کے نامور گیندبازوں گلین میک گرا، جیسن گلیسپی، شین وارن اور مائیکل کاسپرووِچ کے خلاف کھل کر اسٹروکس کھیلے اور 134 گیندوں پر 11 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 111 رنز بنائے۔ 4 میں سے تین چھکے انہوں نے شین وارن کو لگائے لیکن آخر میں شکار بھی انہی کے ہاتھوں ہوئے۔ یوسف کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن ڈگمگا گئی اور پاکستان مقابلہ بھی ہار گیا مگر بحیثیت کپتان پہلے ہی مقابلے میں سنچری بنانا یوسف کی ایک یادگار اننگز تھی۔

202 بمقابلہ انگلستان، 2006ء لارڈز

2006ء یوسف کے لیے ایک یادگار سال تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان میں ایک نیا جوش اور ولولہ نظر آ رہا تھا۔ جب سال کے وسط میں پاکستان انگلستان پہنچا تو لارڈز کے تاریخی میدان پر ایک زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ انگلستان کے 528 رنز کے جواب میں پاکستان صرف 68 رنز پر 4 کھلاڑیوں سے محروم ہوچکا تھا۔ تب محمد یوسف نے انضمام اور دیگر آنے والے بلے بازوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو سنبھالا دیا۔ 7 گھنٹے اور 48 منٹ تک انگلستان کے گیندبازوں کے جمے رہنے کے دوران یوسف نے 330 گیندیں کھیلیں اور 202 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ یہ لارڈز کے میدان کسی بھی پاکستانی بلے باز کی محض دوسری ڈبل سنچری تھی۔ اسی اننگز کی بدولت پاکستان مقابلے کو ڈرا کرنے میں کامیاب ہوا۔ گو کہ اس سیریز میں یوسف نے ایک اور سنچری بھی بنائی اور اوول میں کھیلا گیا سیریز کا آخری ٹیسٹ زبردست تنازع کی وجہ سے ختم ہوا لیکن 2006ء میں یوسف کا بلّا مسلسل رنز اگلتا رہا یہاں تک کہ سال کے اختتام تک وہ صرف 11 ٹیسٹ میں 99.33 کے اوسط سے 1788 رنز بنا چکے تھے۔ یہ ایک سال میں سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے کا نیا عالمی ریکارڈ تھا جو آج بھی قائم ہے۔

Facebook Comments