یاسر شاہ نے سب کو پیچھے چھوڑدیا

ہم پاکستانی اپنے ہیروز کی قدر نہیں کرتے جبکہ دنیا بھر کی بڑی شخصیات کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ اپنے ہیرو کو بھی اُس وقت بڑا مانیں گے، جب کوئی باہر والا اُسے ہیرو کہے۔یاسر شاہ بھی انہی بدنصیبوں میں شامل ہیں۔

عالمی کپ 2015ء کے آغاز پر پاک-بھارت مقابلے میں غیر تسلی بخش کارکردگی پر یاسر شاہ کو باہر بٹھانے کا فیصلہ کرلیا گیا حالانکہ آسٹریلیا کی وکٹوں پر لیگ اسپنرز کی کامیابی کی طویل تاریخ موجود ہے۔ اس کی ایک مثال آسٹریلیا ہی کے شین وارن ہیں تو دوسری 1992ء کے عالمی کپ میں مشتاق احمد کی کارکردگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بہرحال، شین وارن جیسے عظیم اسپنر جس کھلاڑی کے مداح ہوں، اس کو خصوصی رعایت تو ملنی چاہیے، بہرحال یاسر شاہ اب بھی پاکستان کی تمام طرز کی ٹیموں کا مستقل حصہ نہیں ہیں۔ ٹیسٹ درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر موجود یاسر شاہ کے بارے میں شائقینِ کرکٹ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت دنیا کے بہترین اسپنر ہیں۔ معروف ویب سائٹ کرک اِنفو کے پول میں عوام سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کی نظر میں اِس وقت دنیا کا بہترین اسپنر کون ہے۔ انتخاب کے لیے یاسر شاہ کے علاوہ بھارت کے روی چندر آشون، بنگلہ دیش کے شکیب الحسن، سری لنکا کے رنگانا ہیراتھ اور آسٹریلیا کے ناتھن لیون کے نام دیے گئے۔

اعلان کردہ نتیجے کے مطابق یاسر شاہ نے 31 فیصد، آشون نے 23 فیصد، شکیب نے 21 فیصد، ہیراتھ نے 16 فیصد اور ناتھن لیون نے 9 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح یاسر شاہ عوامی آراء کے مطابق دنیا کے بہترین اسپنر قرار پائے ہیں۔

سری لنکا کے خلاف آخری ٹیسٹ سیریز کے تین مقابلوں میں 24 وکٹیں حاصل کرنے ، اور ماضی قریب میں آسٹریلیا کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے، والے یاسر شاہ نے ایک مرتبہ پھر باور کرایا ہے کہ دنیا انہیں سنجیدہ لے رہی ہے، اس لیے ٹیم انتظامیہ بھی انہیں اہم کھلاڑی سمجھے۔ اب تو انگلستان کے خلاف آئندہ سیریز کے لیے بھی انہیں پاکستان کا اہم ترین مہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دیکھتے ہیں، یاسر شاہ ایک مرتبہ پھر خود کو کس طرح ثابت کرتے ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments