کولمبو ٹیسٹ کے پہلے دن بارش برتری لے گئی

سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ مقابلے میں برتری حاصل کرنے کے خواہاں سری لنکا اور بھارت پر کھیل کے پہلے دن بارش کی اجارہ داری قائم رہی۔ دن بھر میں صرف 15 اوورز کا کھیل ممکن ہو سکا جس میں بھارت نے دو وکٹوں کے نقصان پر 50 رنز بنائے۔

کولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب گراؤنڈ پر جاری تیسرے ٹیسٹ میں سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا تاکہ وکٹ کا فائدہ حاصل کرتے ہوئے مہمان ٹیم کو ابتدائی بلے بازوں کو جلد از جلد ٹھکانے لگایا جا سکے۔ کسی حد تک یہ منصوبہ بندی کامیابی بھی ہوئی کیونکہ دھمیکا پرساد نے اننگز کے پہلے ہی اوور میں لوکیش راہول کو ٹھکانے لگا دیا۔ انہوں نے صرف 2 رنز بنائے۔ ابھی بھارتی بلے باز سنبھلنے کی کوشش ہی کررہے تھے کہ چوتھے اوور میں اجنکیا راہانے تیز گیندباز نووان پردیپ کا شکار بن گئے۔ یوں بھارت صرف 14 رنز پر اپنے دو بلے بازوں سے محروم ہوچکا تھا۔ مجموعی طور پر پوری سیریز میں ہی اوپننگ میں بھارت مشکلات سے دوچار رہا ہے۔ تینوں مقابلوں میں بھارت نے مختلف بلے بازوں سے اننگز کا آغاز کیا اور پانچ اننگز میں پہلی وکٹ کے لیے اب تک صرف 35 رنز ہی بنے ہیں۔ جو اننگز کے آغاز میں بھارت کی مشکلات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔

راہانے کے بعد کپتان ویراٹ کوہلی کریز پر آئے اور چیتشور پجارا کے ساتھ مل کر انہوں نے ٹیم کو کچھ سہارا دیا۔ کسی نہ کسی طرح انہوں نے مجموعے کو 50 رنز تک پہنچا دیا۔ درمیان میں دو شاٹس سلپ تک پہنچنے سے کچھ پہلے گرے، ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل بھی ہوئ اور ایک کیچ بھی چھوٹا، یہاں تک کہ رن آؤٹ کا ایک سیدھا موقع بھی ضائع ہوا لیکن اس کے بعد بھارت کو پریشان کن مرحلے سے نکالنے کے لیے بارش آ گئی اور اتنی دیر موجود رہی کہ بالآخر دن کے خاتمے کا اعلان کرنا پڑا۔ پجارا19 اور کوہلی 14 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔

دو ٹیسٹ کے بعد سیریز ایک-ایک سے برابر رہنے کے بعد تیسرا مقابلہ انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ بھارت کے پاس 22 سال بعد سری لنکا کی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ سیریز جیتنے کا موقع ہے اور مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا جیسے عظیم کھلاڑیوں کے بعد نوجوانوں پر مشتمل سری لنکن دستے کے ہر کھلاڑی پر ذمہ داری عائد ہے کہ وہ بھارت کو ایسا کرنے سے روکے اور گزشتہ سیریز میں پاکستان کے خلاف بری طرح ناکامی کا ازالہ کرے۔

آخری ٹیسٹ کے لیے بھارت نے وریدھمن ساہا کی جگہ نامن اوجھا کو موقع دیا ہے جو اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے ہیں جبکہ ریٹائرمنٹ لینے والے سنگاکارا کی جگہ بطور وکٹ کیپر کوسال پیریرا کو پہلا ٹیسٹ کھیلا گیا ہے۔ جیہان مبارک اور دشمنتھا چمیرا کو ناقص کارکردگی کی وجہ سے ڈراپ کرتے ہوئے تجربہ کار اوپل تھارنگا اور نووان پیریرا کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ سنہالیز اسپورٹس کلب میں سری لنکا پچھلے 14 ٹیسٹ سے ناقابلِ شکست ہے اور آخری بار 11 سال قبل 2004ء میں اسے یہاں شکست ہوئی تھی۔

دیکھتےہیں دوسرا دن مقابلے کے پلڑے کو کس کے حق میں جھکاتا ہے، پہلے دن کے بعد تو صورتحال بالکل بھی واضح نہیں ہے۔

Facebook Comments