کرکٹ کہاں اور کب ایجاد ہوا؟ نئی بحث چھڑگئی

کرکٹ سے واقفیت رکھنے والا تقریباً ہر فرد یہ بات جانتا ہے کہ کرکٹ کی ایجاد انگلستان میں ہوئی اور یہی وہ سرزمین ہے جہاں سے اِس کھیل کی شروعات ہوئی اور آج یہ ایک عالمی کھیل بن گیا ہے۔ لیکن اگر آپ واقعی ایسا ہی سمجھتے ہیں تو اطلاعاً عرض ہے کہ کرکٹ کے موجد کے دعویدار کے طور پر فرانس بھی میدان میں کود پڑا ہے۔ جی ہاں! جس طرح سیاست، فٹ بال اور رگبی کے میدانوں میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں، اب اس فہرست میں مزید اضافہ ہوچکا ہے اور معاملہ انگلستان کے قومی کھیل یعنی کرکٹ تک بھی پہنچ چکا ہے۔

اگرچہ فرانس میں کرکٹ کے کھیل کو کسی حد تک پسند تو کیا جاتا ہے مگر اب تک کرکٹ میں فرانس ایسی ٹیم بنانے میں ناکام رہا ہے، جو بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ لیکن اس کے مقابلے میں انگلستان میں کرکٹ کا مضبوط ڈھانچہ موجود ہے، بلکہ انگلستان وہ ملک ہے جس کو کرکٹ کا پہلا بین الاقوامی مقابلہ کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس تمام تر حقیقت کے باوجود فرانس کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر دیدیئر مارکوئی نے دعویٰ کیا ہے کہ کرکٹ برطانیہ میں نہیں بلکہ لگ بھگ 800 سال پہلے اُن کے ملک یعنی فرانس میں ایجاد ہوئی تھی۔

مارکوئی کا کہنا ہے کہ وہ ہوا میں تیر نہیں چلا رہے بلکہ اُن کے پاس اِس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے تمام دستایزات بھی موجود ہیں کہ فرانس میں کرکٹ کا آغاز تیرویں صدی میں ہوا۔ البتہ انہوں نے اس کو تسلیم کیا کہ اُس وقت کرکٹ کی شکل ایسی نہیں تھی جیسی موجودہ دور میں ہے۔

صدر فرانس کرکٹ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ جدید طرز کی کرکٹ کا پہلا مقابلہ 1864ء میں کھیلا گیا تھا، جبکہ یہ کھیل بادشاہ لوئی چہاردہم کا پسندیدہ کھیل تھا۔مارکوئی اپنی بات کو ٹھیک ثابت کرنے کے لیے یہ بھی کہہ گئے کہ انگلستان جس کھیل کو اپنی ایجاد سمجھتا ہے، وہ اُس کے فوجیوں نے فرانسیسی فوجیوں سے سیکھا تھا، جب جنگ بندی کے بعد وہ اپنے وطن جارہے تھے۔ "یہ بات ماننے میں کوئی عار نہیں کہ موجودہ دور میں کرکٹ جس شکل میں موجود ہے، وہ یقیناً انگلستان کی مرہونِ منت ہے، جسے دیکھ کر میں بھی لطف اندوز ہوتا ہوں۔"

اگرچہ فرانس میں کرکٹ مقبولیت کی اُن بلندیوں تک نہیں پہنچی، جو رگبی یا فٹ بال کو حاصل ہیں، مگر اِس کے باوجود بتدریج بہتری آرہی ہے۔ اِس بہتری کی ایک مثال یہ بھی ہوسکتی ہے کہ فرانس میں اِس وقت ہزاروں رجسٹرڈ کرکٹ کھلاڑی موجود ہیں جن کی اکثریت کا تعلق جنوبی ایشیاء سے ہے یا پھر انگلستان سے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہاں 30 کلبس بھی موجود ہیں، جن کو 3 ڈویژنز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

Facebook Comments