قسمت بھی واٹسن کا ساتھ چھوڑنے لگی

کہاں بلّے بازی میں عالمی ریکارڈز کی قربت، اور کہاں یہ عالم کہ رواں سال اپنی جگہ مضبوط کرنے کے لیے بھی جدوجہد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہم بات کررہے ہیں شین واٹسن کی۔ جو بیٹنگ کر نہیں پا رہے، باؤلنگ ہو نہیں رہی ہے اور اب تو قسمت بھی ان کا دامن چھوڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

انگلستان کے دورے پر واٹسن کو محض ایک ٹیسٹ میں موقع دیا گیا، اور اب وہ محدود اوورز کے مرحلے میں قسمت آزمائی کررہے ہیں تو نصیب بھی پھوٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کارڈف میں صاف محسوس ہوا کہ شاید واٹسن کے دن پورے ہوچکے ہیں۔

34 سالہ بلے باز انگلستان کے خلاف واحد ٹی ٹوئنٹی میں 8 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے کہ اسٹیون فن کی ایک گیند ان کے لیے واپسی کا پروانہ لے کر آئی۔ ایک دفاعی شاٹ کھیلتے ہوئے واٹسن گیند کو شاید پوری قوت سے روک نہ سکے جس کے نتیجے میں وہ بلّے سے لگنے کے بعد ٹپہ کھا کر واپس گھوم گئی۔ اس سے پہلے کہ واٹسن کے اوسان بحال ہوتے اور وہ بروقت گیند کو وکٹوں میں گھسنے سے روکتے، وقت پورا ہوگیا اور یوں ایک اور ناکامی ان کے نصیب میں لکھ دی گئی۔

واٹسن شرمندگی سے سر جھکائے، مایوسی کے ساتھ لوٹتے دکھائی دیے اور انگلستان کے کھلاڑیوں اور تماشائیوں کے لیے ہنسی ضبط کرنا مشکل ہوگیا تھا۔

183 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے کپتان اسٹیو اسمتھ کی شاندار اننگز کی بدولت مقابلہ تو خوب کیا لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ جس کی بڑی وجہ اوپنرز کی ناکامی بھی تھی۔ واٹسن کے ساتھ آنے والے اوپنر ڈیوڈ وارنر پہلے اوور میں آؤٹ ہوئے جبکہ دوسرے میں واٹسن کی وکٹ گرنے کے بعد آسٹریلیا تمام تر کوشش کے باوجود کامیابی حاصل نہ کرسکا۔

اگر واٹسن کو سیریز میں مزید مواقع دیے گئے، اور وہ ان کا فائدہ اٹھانے میں بھی ناکام رہے، تو بعید نہیں کہ ان کے بین الاقوامی کیریئر پر خاتمے کی مہر لگ جائے۔

Facebook Comments