کسی امپائر کی جان جانے سے پہلے قانون بدلا جائے

کرکٹ کی تاریخ پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو یہ اپنے ابتدائی دور میں کبھی خطرناک کھیل نہیں رہا بلکہ ایک وقت وہ بھی تھا جب بلے باز بغیر ہیلمٹ کے میدان میں اُترا کرتے تھے، پھر وقت تبدیل ہوا ، ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی لوازمات آئے، لیکن اُن ہیلمٹس میں گرچہ سر کی حفاظت تو ممکن تھی مگر منہ کھلا ہوتا تھا۔لیکن حالات میں بتدریج تبدیلی آتی رہی اور گزشتہ لگ بھگ 20 سالوں سے ایسے ہیلمٹس بلے بازوں کی ضرورت بن گئے ہیں جن میں چہرے اور سر کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔پھر مزید بات اُس وقت بڑھی جب رواں برس گردن پر بال لگنے کے سبب آسٹریلوی بلے باز فلپ ہیوز کی موت واقع ہوئی جس کے بعد ہیلمٹس میں نئی جدت متعارف کروادی گئی ہے جس میں سر اور چہرے کے بعد گردن کی حفاظت کا بھی سامان کیا گیا ہے۔

چونکہ تیز رفتار گیند کا اگر کوئی براہ راست شکار بنتا ہے تو وہ بلے باز ہے، اِس لیے اُس کی حفاظت کے لیے تمام تر تدابیر ناگزیر ہوچکی ہیں، مگر بات اب بلے بازوں کی حفاظت سے آگے نکل گئی ہے اور کرکٹ سے محض بلے بازوں کی جان کو خطرہ نہیں رہا بلکہ امپائر کی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔بس یہی وجہ ہے کہ سابق آسٹریلوی وکٹ کیپر روڈ مارش نے مطالبہ کیا ہے کہ امپائروں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں اور اِس ضمن میں سرفہرست نو-بال کے قانون کو تبدیل کرتے ہوئے اِس کا اختیار تیسرے امپائر کو دیا جائے۔

بات کی وضاحت کرتے ہوئے مارش کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ کرکٹ کی شکل تبدیل ہوتی جارہی ہے اور اب زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کے لیے کھلاڑی جارحانہ کرکٹ کھیلنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور ان حالات کی ذمہ دار ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہے جہاں بلے بازکو کم اوورز میں زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کے لیے ہر طرح کے شاٹس کھیلنے پڑتے ہیں۔مارش کہتے ہیں کہ آپ خود کو امپائر کی جگہ رکھ کر سوچیں کہ آپ وکٹ کے بالکل قریب کھڑے ہیں اور بلے باز گیند کو دیکھتے ہی تیز شاٹ کھیلے جو عین آپ کے سینے کی طرف گولی کی رفتار سے آرہا ہو تو آپ کیا کریں گے؟

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر میں امپائر کی جگہ ہوتا بیس بال کا ہیلمٹ بھی پہنتا، سینے کی حفاظت کا بھی انتظام کرتا، صرف یہی نہیں بلکہ پیٹ اور پنڈلی کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرتا۔وہ کہتے ہیں کہ امپائر کے پاس خود کو بچانے کے لیے محض ایک لمحہ ہوتا ہے، اِس لیے ضروری ہے کہ نو-بال کا اختیار تیسرے امپائر کو دیا جائے تاکہ فیلڈ امپائر وکٹ سے کچھ کم از کم دو میٹر مزید دور کھڑا ہوسکے۔

یاد رہے کہ 1962 سے قبل فرنٹ فٹ نو-بال کا قانون نہیں تھا بلکہ بیکفٹ نوبال کا قانون لاگو تھا، اور مارش ایک بار پھر یہ زور دے رہے ہیں کہ قانون کو تبدیل کیا جائے اور دوبارہ سے بیک فٹ نو-بال کے قانون کو نافذ کیا جائے ، اِس طرح نا صرف نو-بال کی بڑھتی تعداد کو بھی کم کیا جاسکے گا بلکہ اوور ریٹ کے بڑھتے مسائل سے بھی نمٹنا آسان ہوجائے گا اور سب سے بڑھ کر امپائر کی جانوں کی حفاظت بھی ممکن ہوسکے گی۔

Article Tags

Facebook Comments