اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں

اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں طویل سزائیں کاٹنے والے کھلاڑیوں کی واپسی کا اگر کوئی امکان تھا تو آج چیف سلیکٹر ہارون رشید کے تازہ بیان سے ختم ہی ہوگیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں کی فی الحال قومی دستے میں کوئی جگہ نہیں ہے اور انہیں 28 فروری تک بحالی کے اس مرحلے سے گزرنا ہوگا، جس کا اعلان ابھی بورڈ نے کچھ دن قبل کیا ہے۔

پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ اور تیز گیند باز محمد آصف اور محمد عامر ٹھیک پانچ سال قبل انگلستان کے دورے پر جان بوجھ کر نو-بالز پھینکنے اور اس کے بدلے میں سٹے بازوں سے رقوم حاصل کرنے میں دھر لیے گئے تھے جس پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان پر کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندی عائد کی تھی جبکہ برطانیہ میں ایک فوجداری مقدمے میں تینوں کو قید کی سزائیں بھی ملی تھیں۔ اب آئی سی سی کے اعلان کے مطابق یکم ستمبر کو تینوں کھلاڑیوں کی لازمی سزا تو اپنے اختتام کو پہنچی لیکن کیا یہ کھلاڑی اب قومی کرکٹ ٹیم میں واپس آ سکیں گے؟ کیا اس کا کوئی اخلاقی جواز ہے؟ یہ سوال پاکستان کرکٹ کے حلقوں میں کئی دنوں سے گردش کررہا ہے اور اسی کا جواب چیف سلیکٹر ہارون رشید نے بھی دیا ہے۔

کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہارون رشید نے کہا کہ ملک کا نام ڈبونے والے اور اسے بدنام کرنے والے کھلاڑیوں کی سزا تو مکمل ہوئی، لیکن انہی پانچ سالوں میں جن کھلاڑیوں نے پاکستان کی ساکھ بحال کرنے کے لیے کام کیا، ان کو کیوں باہر نکالا جائے؟ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے اور کیا پانچ سال تک انتہائی مشکل حالات میں ملک کا پرچم بلند رکھنے والے کھلاڑی انہیں قبول بھی کریں گے؟ لیکن یہ بات واضح ہے کہ فی الوقت ان تینوں کھلاڑیوں کی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ہارون رشید نے کہا کہ "کسی بھی وجہ سے صرف ایک سیزن نہ کھیل پانے والے کھلاڑیوں کو واپسی میں عرصہ لگ جاتا ہے، ان کھلاڑیوں نے تو پانچ سال سے کرکٹ میدانوں کی شکل نہیں دیکھی۔ انہیں تو واپس آنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی بلکہ میں تو کہوں گا کہ صفر سے شروع کرنا ہوگا۔"

چیف سلیکٹر نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کھلاڑیوں کی بحالی کے لیے جو منصوبہ ترتیب دیا ہے، اس کے تحت تو یہ 28 فروری تک فرسٹ کلاس بھی نہیں کھیل سکتے اور انہیں گریڈ II سے آغاز کرنا ہوگا۔ یوں وہ شاید پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن بھی نہ کھیل سکیں۔ اس لیے فی الحال ان کھلاڑیوں کی واپسی کی باتیں کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ قومی ٹیم کے کئی موجودہ اراکین نے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ان کھلاڑیوں کی ممکنہ واپسی پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں اور چیف سلیکٹر کے تازہ بیان سے یہ بات کافی حد تک واضح ہوچکی ہے کہ ان خبروں میں واقعی صداقت ہے۔ سلمان بٹ اور محمد آصف کے مستقبل سے تو شاید بہت کم افراد کو دلچسپی ہو لیکن اس معاملے میں محمد عامر کے ساتھ کیا ہوتا ہے، یہ دیکھنا بہت اہم ہوگا۔

Facebook Comments