بھارت کے ہاتھوں شکست نے سری لنکا کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا

پہلے پاکستان اور پھر بھارت کے خلاف دو دہائی کے طویل عرصے بعد اپنی ہی سرزمین پر شکست نے سری لنکا کے لیے سنگین مسائل کھڑے کردیے ہیں اور ان میں مزید اضافہ اب ہوگیا ہے کیونکہ ہیڈ کوچ مارون اتاپتو نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

سری لنکا کرکٹ نے اتاپتو کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بورڈ نے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے، لیکن استعفے کی وجہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ آخری اتاپتو نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا، حالانکہ انہیں عہدہ سنبھالے ہوئے ابھی 11 ماہ ہی گزرے ہیں۔ گو کہ وہ 2011ء سے ٹیم کے ساتھ موجود ہیں لیکن اپریل 2014ء تک ان کی ذمہ داریاں بطور بیٹنگ کوچ تھیں جس کے بعد وہ اکتوبر 2014ء تک قائم مقام کوچ رہے۔

بہرحال، اپنے اعلامیہ میں سری لنکا کرکٹ نے اتاپتو کی خدمات کو نہ صرف سراہا ہے، بلکہ ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ بہرحال، اِن 11 ماہ میں اتاپتو نے ملے جلے نتائج دیکھیں، اچھا وقت بھی آیا، برا بھی۔ اگر یادگار سیریز کی بات کی جائے تو گزشتہ سال انگلستان کے خلاف تاریخی کامیابی سب سے نمایاں ہوگی۔ لیکن اسی عرصے میں سری لنکا نے بڑے نقصانات بھی جھیلے۔ پہلے بلے باز مہیلا جے وردھنے اور پھر سنگاکارا ایک، ایک کرکے الوداع کہہ گئے۔

اب مارون اتاپتو کی جگہ لینے کے لیے بنگلہ دیش کے کوچ چندریکا ہتھوراسنگھے اور گریم فورڈ مضبوط اُمیدوار ہیں، جو ماضی میں بھی سری لنکا کی کوچنگ کرچکے ہیں۔

اتاپتو کی آخری مہم بری طرح ناکام رہی، جس کی وجہ سے بھارت 22 سال بعد سری لنکا کی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا۔ گال میں کھیلا گیا پہلا مقابلہ تو دلچسپ مقابلے کے بعد سری لنکا کے نام رہا لیکن وہ اس برتری کو اگلے ہی مقابلے میں کھو بیٹھا، یہاں تک کہ آخری ٹیسٹ میں بدترین ناکام اسے 117 رنز کی بدترین شکست ہوئی۔

Facebook Comments