پاکستان سپر لیگ کی کامیابی، پی سی بی کے دو اہم اقدامات

وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان سپر لیگ کے لیے کرکٹ بورڈ فعال ہوتا نظر آ رہا ہے۔ گزشتہ روز پی سی بی نے اس کے لیے دو بڑے اور اہم کام کیے۔ ایک تو سابق کپتان اور 'سوئنگ کے سلطان' وسیم اکرم اور ایک اور سابق قائد اور موجودہ صف اول کے تبصرہ کار (کمنٹیٹر) رمیز راجہ کو لیگ کا سفیر بنا دیا ہے اور دوسرا یہ کہ جن غیر ملکی کھلاڑیوں نے لیگ کھیلنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، ان کو معاہدے کے مسودے بھیج دیے ہیں تاکہ کھلاڑیوں کی حتمی فہرست تیار کی جا سکے۔

دنیا کی سب سے بڑی لیگ آئی پی ایل سے منسلک رہنے والے ماضی کے دو عظیم کھلاڑیوں کے تجربے سے استفادہ اٹھانے کے لیے انہیں پی ایس ایل میں یہ اہم عہدہ دیا گیا ہے۔ وسیم اکرم آئی پی ایل میں متعدد بار چیمپئن رہنے والی کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے باؤلنگ کوچ رہے ہیں جبکہ رمیز راجہ مستقلاً کمنٹری کرتے رہے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کو سفیر بنانے کا فیصلہ جمعے کو ایک اجلاس میں کیا گیا جبکہ بورڈ مزید بڑے ناموں کو شامل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز اور مایہ ناز تیز باؤلر لاستھ مالنگا بھی پاکستانی لیگ کے لیے رضامندی ظاہر کر چکے ہیں۔ پی سی بی خاصا پرامید ہے کہ ویسٹ انڈیز کے جارح مزاج کرس گیل اور انگلستان کے کیون پیٹرسن بھی بہت جلد’’ہاں‘‘ کردیں گے۔ جبکہ سری لنکا کے عظیم کھلاڑیوں مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا کو رضامند کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ گو کہ دونوں کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ چھوڑ چکے ہیں، لیکن اِن دونوں کی شرکت سے لیگ کا ’’قد‘‘ مزید بڑھ جائے گا۔

اب تک ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور سری لنکا کے کھلاڑی چند کھلاڑی پاکستان سپر لیگ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے جن کھلاڑیوں نے حامی بھری ہے ان میں مایہ ناز آل راؤنڈرز کیرون پولارڈ اور ڈیوین براوو، بہترین اسپنر سنیل نرائن، ڈیوین اسمتھ اور سیموئل بدری شامل ہیں۔ سری لنکا کے نمبر ایک ٹی ٹوئنٹی بلے باز تلکارتنے دلشان کے علاوہ تھیسارا پیریرا بھی پاکستان سپر لیگ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور غالباً اجنتھا مینڈس بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کی فہرست میں جگہ پائیں۔ جنوبی افریقہ کے رابن پیٹرسن اور رچرڈ لیوی، انگلستان کے مائیکل کاربیری اور ٹم بریسنن اور نیوزی لینڈ کے گرانٹ ایلیٹ اور جیمز فرینکلن پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں کھیلتے نظر آ سکتے ہیں۔ آسٹریلیا کے بریڈ ہوج بھی ممکنہ طور پر کسی پاکستانی فرنچائز کی جانب سے کھیلیں گے۔

یاد رہے پی ایس ایل کا انعقاد فروری 2016 میں دوحہ کے میدان میں ہوگا۔ ایونٹ کے حوالے سے بورڈ نے جو پالیسی ترتیب دی ہے اُس کے مطابق ایونٹ میں 5 ٹیمیں شرکت کریں گی یعنی اسلام آباد، سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختوانخواہ۔ ہر ٹیم میں 5 غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کیا جاسکے جبکہ باقی پاکستانی کھلاڑی ہوں گے۔

Facebook Comments